چینی سیاح غلطی سے پناہ گزینوں کے مرکز پہنچ گیا

چین کے سیاح دراصل چوری کی رپورٹ درج کروانا چاہتے تھے۔

جرمنی کے میڈیا کا کہنا ہے کہ 31 سالہ چینی سیاح بیک پیکر کا طبی معائنہ اور انگلیوں کے نشانات لیے گئے۔

پیکر نے اس موقع پر کچھ نہیں کہا کیونکہ نہ تو وہ جرمنی اور نہ ہی انگریزی زبان بول سکتے تھے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ایک کارکن کرسٹو شلوترمان کو بعد میں معلوم ہوا کہ چین کے سیاح بیک پیکر کا بٹوہ جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں چوری ہو گیا تھا تاہم انھیں پناہ گزین کے طور پر درج کر لیا گیا۔

بالاآخر بیک پیکر کا مسئلہ ایک مترجم نے حل کیا۔

اس مترجم کو پناہ گزینوں کے ہاسٹل کے قریب ایک چینی ریستوان میں دیکھا گیا جہاں چینی سیاح بیک پیکر ٹھہرے ہوئے تھے۔

بیک پیکر گذشتہ ماہ کے اوائل میں پناہ گزینوں کے ساتھ ایک بس کے ذریعے جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ سے شٹٹگارٹ آئے تھے۔

ریڈ کراس کے ورکر کرسٹو شلوترمان کا کہنا ہے کہ چینی سیاح دوسروں سے بہت زیادہ مختلف اور بے یارو و مدد گار نظر آ رہے تھے۔

ترجمے کی ایک ایپ نے شلوترمان کے خدشے کی تصدیق کی کہ چینی سیاح بیک پیکر پناہ گزین کے نظام میں غلطی سے پھنس گئے تھے۔

چین کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والے بیک پیکر نے حکام کو اپنا پاسپورٹ، ویزہ اور انگلیوں کے نشانات لینے کی اجازت دے دی۔

اس کے بعد ان کا طبی معائنہ اپ کیا گیا اور جرمنی پہنچنے کے بعد انھیں دیگر پناہ گزینوں کی طرح سٹینڈرڈ دستاویزات دیے گئے۔

انھیں پناہ گزینوں کے ہاسٹل میں کھانے کے علاوہ خرچ کے لیے کچھ رقم بھی دی گئی۔

ریڈ کراس کے ورکر کرسٹو شلوترمان کے مطابق ہاسٹل کے سٹاف نے سیاح کی شناخت کے لیے متعدد سفارت خانوں سے بھی رابطہ کیا۔

آخر کار چینی سیاح کی پناہ کی درخواست پر کام روک دیا گیا اور وہ اپنا یورپی دورہ دوبارہ جاری رکھنے کے قابل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے