کراچی میں بارش کے دوران حادثات، 12 افراد ہلاک

کراچی: شہر قائد میں میں جمعرات سے جاری بارش کے دوران مختلف حادثات میں ایک درجن افراد ہلاک ہوگئے۔

ایدھی فاﺅنڈیشن اور چھیپا کے عہدیداران کے مطابق 12 لاشوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

8 افراد کرنٹ لگنے جبکہ 3 دیوار منہدم ہونے کے باعث ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں آج صبح تیز ہونے والی بارش سے سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ موسمیات نے آج بھی سارا دن بارش کی پیش گوئی کی ہے.

بارش میں ڈوبی ہوئی کراچی کی ایک سڑک —۔فوٹو/ بشکریہ فیس بک
بارش میں ڈوبی ہوئی کراچی کی ایک سڑک 

صبح سے ہونے والی تیز بارش کے باعث لانڈھی، ملیر، شاہراہ فیصل، گلشن اقبال، لیاری، ناظم آباد اور فیڈرل بی ایریا کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

سڑکوں پر ٹریفک انتہائی سست رفتاری سے رواں دواں ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بارش کے بعد بجلی کے فیڈر ٹرپ ہونے سے شہر کے زیادہ تر حصوں میں بجلی غائب ہوگئی۔

ڈان نیوز کے مطابق کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے-الیکٹرک نے اعتراف کیا کہ صبح کی بارش کے دوران کلفٹن، ڈیفنس، لیاری اور گزری میں پی ایم ٹیز متاثر ہوئے جن کی بحالی کا کام جاری ہے۔

اس سے پہلے شہر میں بارش کے ساتھ ہی 6 گرڈ اسٹیشنز اور سیکڑوں فیڈرز نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا،جس سے شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی۔

الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ بارش کے باعث ٹرپ ہونے والے چار سو فیڈرز میں سے ساڑھے تین سو فیڈرز بحال کردیئے گئے ہیں اور دیگر کی بحالی کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب گھارو کے متاثرہ پمپنگ اسٹیشن کی بحالی کا کام بھی جاری ہے، بجلی کی آنکھ مچولی سے دھابیجی میں 72 انچ قطر کی پائپ لائن پھٹ گئی تھی جس سے شہر کو 20 کروڑ گیلن پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے مختلف علاقوں کا طوفانی دورہ کیا اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔

شہر کے دورے کے دوران مراد علی شاہ نے صدر کے ایک ہوٹل میں چائے پراٹھے کا مزہ اٹھایا اور اس دوران کے الکٹرک کے حکام کو فون کرکے انھیں بجلی بحال کرنے کی ہدایات دیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے روانگی سے قبل ہی مراد علی شاہ نے تمام افسران کو نکاسی آب کی ہدایت اور متعلقہ عملے کو سڑکوں پر موجود رہنے کی ہدایت کی تھی، لیکن وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران یہ احکامات عمل کی شکل اختیار نہ کرسکے، جب صحافیوں نے مراد علی شاہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی وارم اپ میچ ہے۔ بعد میں اپنی ٹیم بناؤں کا اور جو کام نہیں کرے گا وہ ٹیم کا حصہ نہیں ہوگا’۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ماضی میں جو کچھ اس شہر کے ساتھ ہوتا رہا ہے، وہ آج نظر آرہا ہے’۔

مراد علی شاہ نے کہا، ‘کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اب یہ ویسا نہیں ہے’۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ کراچی کی روشنیاں واپس لوٹائیں گے، لیکن اس کے لیے انھیں شہریوں کی سپورٹ درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ہر فورم پر مخالفت کی جائے گی

کراچی: ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں موجودہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے