شیری رحمن سے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھن جانے کے امکانات

اسلام آباد : سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمن سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھن جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پارلیمانی روایت کے مطابق نئی حکومت بنتے ہی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور ہم خیال جماعتیں پچاس ارکان کے ساتھ ایوان بالا میں اکثریت کے ساتھ رضا ربانی کو قائد حزب اختلاف بنانے پر رضا مند ہیں لیکن پیپلزپارٹی آمادہ نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف شیری رحمن اپنے عہدے سے محروم ہوجائیں گی۔ پارلیمانی روایت کے مطابق نئی حکومت بنتے ہی سینیٹ میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف تبدیل ہوجاتے ہیں اس لئے موجودہ قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی تحریک انصاف اپنا قائد ایوان نامزد کرے گی اور قائد حزب اختلاف بھی تبدیل کردیا جائے گا۔مسلم لیگ ن اس وقت سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے جس کی ہم خیال جماعتوں سمیت ارکان کی کل تعداد پچاس ہے۔ اور مسلم لیگ ن کسی صورت اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلزپارٹی کو نہیں دینا چاہتی تاہم اگر رضا ربانی کو نامزد کیا جائے تو مسلم لیگ ن ان کی قائد حزب اختلاف کے طور پر حمایت کرے گی اور اس کی حمایتی جماعتیں بھی اس پر راضی ہوجائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ موخر

2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ موخر

پشاور: افغان صدر اشرف غنی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ طالبان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے