افغان مہاجرین نے پاکستان میں مزید قیام کی اجازت مانگ لی

گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے بیٹے حبیب الرحمن حکمت یار،سابق افغان سفیر غیرت وحید،شمشتو کیمپ سربراہ قاری محمود شاہ،جلوزئی کیمپ کے سربراہ ہاشمی، خراسان کیمپ کے رہنما کمانڈر ارسلان سمیت دیگر نے پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہا پاکستان میں چار دہائیاں گزارنے کے بعد پر امن طور پر واپس جانا چاہتے ہیں تاہم انکی واپسی کیلئے کریک ڈاﺅن کرنا افسوسناک ہے ، اقوام متحدہ کے ادارے کے تازہ سروے کے مطابق افغانستان کے اندر جنگ اور امن کے فقدان کیوجہ سے پندرہ لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں جن کیلئے اب تک سر چھپانے کیلئے بندوبست نہیں کیا گیا،افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے تعلیم،روزگار،کاروبار اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے جبکہ افغان حکومت اور اقوام متحدہ کی طرف سے واپس جانے والوں کیلئے مناسب پلان نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ افغان سیٹیزن کارڈ کی مدت میں تب تک توسیع کی جائے جب تک مہاجرین کی مشکلات کے حل اور واپس جانے کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوتا جبکہ افغان مہاجرین قیدیوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں جلد رہا کیا جائے اور آئندہ ایسا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا جو افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں ان کو ماضی کی طرح افغانستان اور پاکستان بغیر ویزا پالیسی کے تحت آنے جانے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

واقعے, کے تین سال, کے بعد صوبائی, پولیس نے تسلیم کیا کہ, ان لڑکیوں, کو قتل, کیا گیا ہے

واقعے کے تین سال کے بعد صوبائی پولیس نے تسلیم کیا کہ ان لڑکیوں کو قتل کیا گیا ہے

خیبر پختونخوا: سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لڑکیوں کے ڈانس کی ویڈیو منظر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے