ایران کو 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تاوان نہیں تھی

جمعرات کو امریکی محکمۂ دفاع میں ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر اوباما نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مغویوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کرتا ہے۔

انھوں نے کہا ’آپ میں کچھ افراد جانتے ہوں گے کہ کئی ماہ قبل جنوری میں ہم نے رقم کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا اور یہ سب خفیہ نہیں تھا۔‘

یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ کی جانب سے سات ایرانی قیدیوں کو معافی دینے اور 14 کے ورانٹ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے پانچ امریکی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اِن کی رہائی کے فوری بعد امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے سوئس فرینک اور یورو ڈبوں میں بند کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران بھجوائے تھے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ رقم فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے دی تھی لیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ فروخت روک دی گئی اور اب اس سلسلے میں لی گئی رقم واپس کی جا رہی ہے۔

صدر اوباما نے کہا ’ہم رہائی کے لیے تاوان نہیں ادا کرتے۔ بہت سے امریکی مختلف ممالک میں محصور ہیں۔ میں اُن کے خاندانوں سے ملتا ہوں اور یہ بہت دل سوز ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ایران کو رقم کی ادائیگی اُس وقت کی گئی جب جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران سے نیو کلیئر معاہدہ طے پا گیا۔’گذشتہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ ہم نے ایران سے سفارتی سطح پر بات چیت کی ہے۔‘

صدر اوباما نے میڈیا میں ایران کو دی گئی رقم پر ہونے والی تنقید پر کہا ہے کہ قابلِ ادا رقم کی عدم ادائیگی ایک ’قانونی خطرہ‘ ہے جس سے امریکہ کو اربوں ڈالر مالیت کا نقصان ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ رقم نقدی کی صورت میں اس لیے ادا کی گئی کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ کے بینکاری کے تعلقات نہیں ہیں ہم ایران پر عائد پابندیوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ یہ گروہ اب بھی ایک خطرہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس گروہ کے قدم اکھڑ گئے ہیں اور یہ اب اپنے حملوں کا نشانہ دوسرے ملکوں کو بنا رہے ہیں۔

گو کہ شام اور عراق میں گروہ کے خلاف بڑی کارروائیاں جاری ہیں اس گروہ نے رواں برس یا تو کچھ بڑے حملے کیے یا اس کی ذمہ داری قبول کی جن میں عراق، فرانس، جرمنی اور کئی دوسرے ممالک میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ کہ ہم خوف کا شکار نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا ’دولت اسلامیہ نہ تو امریکہ کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کے نیٹو پارٹنرز کو۔‘

’ہمیں ہم خود ہی شکست دیں گے اگر ہم نے غلط فیصلہ کیے تو۔‘

انھوں نے کہا کہ کل 67 ممالک کی قیادت میں امریکہ اسلامک اسٹیٹ کو ختم کی مشترکہ مہم جاری رکھے گا

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے