کوئی گنجائش نہیں چھوڑی‘ راج ناتھ سنگھ کو جواب دینا ضروری تھا : وزیرداخلہ

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ سارک کانفرنس میں پاکستان کے مفاد اور مو¿قف کی ترجمانی کرنا میرا فرض ہے۔ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں اپنی ذمہ داری نبھائی۔ نہتے کشمیریوں کے ساتھ ظلم کو کیا نام دیں گے؟ انہوں نے کہا راج ناتھ سنگھ کی باتوں کا واضح اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔ جواب دینا ضروری تھا۔ ان کے جانے کے بعد کانفرنس کامیابی سے مکمل ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سارک کانفرنس ادھوری چھوڑ کر کیوں چلے گئے اس کا جواب وہ خود ہی دینگے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے مفاد اور موقف کی ترجمانی کر کے سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں اپنی ذمہ داری نبھائی۔ راج ناتھ سنگھ کی باتوں کاجواب دیناضروری تھا۔ اگر ایسا نہ کرتا تو کل سے سیاسی بیانات آنے کا خدشہ تھا۔

روایت ہے کہ سارک کانفرنس میں سیاسی معاملات پر بات نہیں ہوتی۔ راج ناتھ سنگھ نے جو باتیں کہیں ان کا واضح اشارہ پاکستان کی جانب تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے لفاظی کی آڑ میں میرے ملک کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

چودھری نثار نے کہا کہ کوئی ملک دہشت گردی کے پیچھے چھپ کر آزادی کی تحریکیں ختم نہیں کر سکتا۔ نام نہاد دہشت گردی کا الزام لگا کر نہتوں پر گولیاں نہیں برسائی جا سکتیں۔ کوئی قانون نہتے سویلینز پر فائرنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ بھارت کےخلاف ہمارے پاس بہت سے شواہد موجود ہیں۔ بھارت کو تحفظات ہیں تو پاکستان کوبھی تحفظات ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستان مذاکرات کو تیار ہے لیکن سر جھکا کر نہیں عزت کے ساتھ۔ چودھری نثار نے کہا کوئی گنجائش نہیں چھوڑی اور دوسری جانب سے کوئی جواب بھی نہیں آیا۔

چودھری نثار نے کہا کانفرنس کا مجموعی طور پر ماحول اچھا رہا اور تمام ممالک نے اصل ایجنڈے پر توجہ مرکوز رکھی۔ راج ناتھ سندھ کے جانے کے بعد سارک کانفرنس کامیابی سے مکمل ہوئی۔ آئندہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس سری لنکا میں ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

بل گیٹس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا

بل گیٹس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز پر اجلاس طلب کرنے پر وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے