پولنگ ختم، نتائج کا انتظار، حکومت کون بنائے گا؟

انتخابات 2018 کے حوالے سے ووٹنگ کا 10 گھنٹے طویل وقت 6 بجے اختتام پذیر ہوا اور اب انتخابی عمل کے اگلے مرحلے کے لیے ووٹوں کی گتنی کا عمل جاری ہے۔ 25 جولائی سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے میڈیا کو ہدایت کی تھی کہ شام 7 بجے تک انتخابات کے نتائج نشر نہ کیے جائیں۔

قومی اسمبلی کی 2 سو 70 نشستوں میں سے اقلیتوں کی 10 اور خواتین کے لیے مخصوص 60 کو ملا کر (کل 3 سو 40 نشستوں) پر انتخابات کا انعقاد ہوا اور جو جماعت 50 فیصد یا 137 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی وہ آئندہ پانچ سالوں کے لیے پاکستان میں حکومت قائم کرے گی۔

اس کے علاوہ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 570 نشستوں کے لیے بھی عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

عام انتخابات میں ایک جماعت اگر ’سادہ اکثریت‘ حاصل کرنے میں ناکام رہی تو وہ اکیلے حکومت نہیں بناسکے گی اور اسے حکومت قائم کرنے کے لیے مختلف آزاد اُمیدواروں یا سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی ضرورت ہوگی۔

ووٹوں کی گتنی کا عمل جاری

پولنگ بوتھ کے اندر موجود پریزائڈنگ افسران اور اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران کی جانب سے ووٹوں کی گتنی کا عمل جاری ہے جس کے بعد افسران ووٹوں کے باکس کو ای سی پی کی جانب سے فراہم کردہ سیل بیگ میں منتقل کردیں گے۔

قومی اسمبلی کے لیے سبز، صوبائی اسمبلی کے لیے سفید اور غیر تصدیق شدہ ووٹوں کے لیے نیلے تھیلے ریٹرننگ افسران کو فراہم کیے گئے تھے۔

یہ تھیلے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کو دیے جائیں گے جو اسے ای سی پی کے دفتر یا اسٹوریج ہاؤس میں جمع کرائیں گے۔

پریزائڈنگ افسر کی جانب سے ہر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے لیے فارم 45 اور 46 بھرا جائے گا، اس فارم میں ہر امیدوار کی معلومات کے ساتھ ساتھ انہیں موصول ہونے والے ووٹ کے بارے میں معلومات درج ہوں گی، یہ نتائج پولنگ اسٹیشن میں موجود پولنگ ایجنٹس سے بھی شیئر کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ پریزائڈنگ افسران دونوں فارمز کے اسکرین شاٹ لے کر اسے ریزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) میں اپ لوڈ کریں گے، اس حوالے سے اینڈرائڈ ایپلی کیشن موجود ہے جو انتخابی افسران کو نتائج الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

اسلام آباد: عمران خان اپنے دورہ امریکا کے بعد جہاں متعدد وزرا کے قلمدان تبدیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے