پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنا ووٹ کس کوڈالا ؟ انتہائی حیرت انگیز بات کہ سوچ کر دنگ رہ جائیں گے

لاہور:آج ملک بھر میں عوام اپنی نئی جمہوری حکومت کے انتخاب کے لئے ووٹ دینے پولنگ اسٹیشوں کی طرف رواں دواں ہے ۔تقریباًساڑھے دس کر وڑ رجسٹرڈ ووٹر آج اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔الیکشن ڈے پر عوام اپنے مخصوص الیکشن سنٹروں پر جا کر ووٹ کاسٹ کررہے ہیں ۔انتخابات کے دن عوام کی حفاظت کے لئے پولیس اور فوج حسب معمول ڈیوٹی پر موجود ہے اور ہر حلقہ اور الیکشن بوتھ پر اپنی نگرانی میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھارہی ہے جس سے عام ذہنوں میں یہ سوال اٹھایاجارہا ہے کہ الیکشن ڈے پر فوجی اپنا ووٹ کیسے کاسٹ کرتے ہیں جبکہ سات لاکھ افراد پر مشتمل پاک فوج انتخابات پر اپنا ووٹ کاسٹ کرتی بھی ہے کہ نہیں ۔الیکشن کمیشن کے ضوابط کے تحت جہاں 2018کے انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا حق جیلوں میں بند قیدیوں کو بھی دیا گیا ہے وہاں آرمڈ فورسز کے علاوہ الیکشن ڈے میں اپنی ڈیوٹیاں دینے والے عملے کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے کا حق حاصل ہے ۔

ووٹ ایک قیمتی ترین حق ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی اپنے ضمیر کے مطابق ملکی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں ،اس موقع پر مسلح افواج بھی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتی ہیں ۔حاضر ڈیوٹی فوجی جوان اور افسراپنے ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پوسٹل بیلٹ پیر پر متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے نام پرالیکشن سے دو ہفتے پہلے درخواست دیتاہے جس کے بعد اسے بیلٹ پیر مل جاتا ہے تو وہ اپنا حق استعمال کرتے ہوئے جس سیاسی جماعت کے امیدوار کو چاہیں ووٹ دے سکتا ہے ۔اس کا بیلٹ پیپر الیکشن ڈے پر عام عوام کی طرح بیلٹ باکس میں پہنچ جاتا ہے ۔الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر پر ووٹ دینے کا طریقہ اپنی ویب سائٹ پر بھی وضع کیا ہوا ہے جس کے تحت قیدیوں اور معذور افراد کے علاوہ بھی جن افراد کو یہ سہولت حاصل ہے وہ پوسٹل بیلٹ پیرسے استفادہ کرکے اپنا ووٹ کاسٹ کرتیہیں ۔

ووٹ چونکہ ہر کسی کا اپنا حق ہے لیکن عام طور پر زیادہ تر ووٹر اپنے دوست احباب رشتہ داروں ،برادری،اور علاقائی دباو کی وجہ سے ووٹ ڈالتے اور اسکا اعلان بھی کرتے ہیں کہ وہ کس جماعت یا امیدوار کو ووٹ دینے جارہے ہیں لیکن اس ضمن میں فوج میں کسی جوان اور افسر پر ووٹ ڈالنے کے لئے دباو نہیں ڈالا جاتا نہ اس بارے کسی قسم کی بریفنگ دی جاتی ہے ۔ بریگیڈیر (ر) رائے اعجازمنصور کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ فوج میں پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ دینے کی آزادی ہوتی ہے اور فوجی جوان و افسر اپنا ووٹ آزادانہ استعمال کرتے ہیں ۔یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کس کو اپنا ووٹ دیں ۔فوج میں کوئی کسی سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ ووٹ کس کو دے گا۔ پاکستان میں فوجیوں کے لئے کنٹونمنٹ میں پولنگبوتھ نہیں بنائے جاتے ۔ویسے بھی الیکشن ڈے پر فوج کے لئے ووٹ کاسٹ کرنا مشکل ہے کیونکہ ملک کی سیکورٹی کی خاطر فوج کو آن ڈیوٹی اور الرٹ رہنا ہوتا ہے ۔

دنیا بھر میں آرمڈ فورسز کے انتخابی دن پرہی ووٹ ڈالنے کا سوال بھی اٹھ رہا ہے ۔حال ہی میں پہلی بار عراق میں 12 مئی 2018کے جنرل الیکشن کے دوران دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ عراقی افواج نے پولنگ اسٹیشن پر قطاریں لگا کر ووٹ کاسٹ کیا ۔کئی دہائیوں کے خطرناک جنگی حالات اور داعش کے خلاف لڑی جانی والی گوریلا جنگ میں عراق کو بدترین تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن حالیہ عراقی انتخابات میں عراق کے الیکشن کمیشن نے انتہائی جدید وسائل استعمال کرتے ہوئے جہاں فوج کے لئے پولنگ اسٹیشن بنا کر ووٹ کاسٹ کرایا وہاں اوورسیز عراقیوں کے لئے بھی ملکوں ملکوں الیکشن بوتھ بنا کر قومی فرض کو اداکرنے کے لئے ممکنہ اقدامات اٹھائے ہیں ۔عراق میں فوجیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کے کامیاب تجربہ کے بعد اس کو دوسرے ملکوں کے لئے بھی امید کی کرن سمجھا جانے لگا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

پیراگون, اسیکنڈل, کیس کی سماعت, 27 جون تک ملتوی, کردی

پیراگون اسیکنڈل کیس کی سماعت 27 جون تک ملتوی کردی

لاہور: نیب کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو احتساب عدالت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے