الیکشن 2018: کراچی پُرامن مگر حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد دگنی کیوں؟

کراچی میں سال 2013 کی ایک ماہ کی انتخابی مہم اور پولنگ کے روز 28 بم دھماکوں، فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں کئی امیداروں سمیت 224 افراد ہلاک جب کہ 440 زخمی ہوئے تھے لیکن اس بار مکمل طور پر امن ہونے کے باوجود شہرِ قائد میں حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد دگنی کردی گئی ہے۔

لاقانونیت کی انتہائی گھمبیر صورتحال اور بدامنی کے حوالے سے 2013 کے انتخابات نگران حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے پلِ صراط تھے، لیکن جمہوریت کی شمع روشن رکھنے کے لیے سرکاری اداروں نے انتہائی مشکل حالات اور آگ و خون سے گزر کر کامیابی حاصل کی اور انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا۔

11 مئی کو کراچی میں پولنگ کا آغاز ہوا تو لانڈھی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 257 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 128 کے عالمگیر اسکول میں واقع پولنگ اسٹیشن کے باہر رکشہ میں بم نصب کرکے دھماکا کیا گیا۔

اس بم دھماکے کا نشانہ تو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار امان محسود تھے، جو واقعے میں محفوظ رہے تاہم ان کے محافظ اور بچے سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ 45 افراد زخمی ہوئے۔

اورنگی ٹاؤن میں ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لانے اور لے جانے والی مسافر کوچ میں بھی بم نصب کرکے دھماکا کیا گیا، جس میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے تھے۔

منگھوپیر میں نیو ناظم آباد کے قریب انتخابی عمل کے لیے تعینات رینجرز اہلکاروں کے قریب خودکش حملے میں 2 اہلکار شہید جبکہ 7 زخمی ہوئے۔ سعیدآباد میں ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا گیا جبکہ اورنگی ٹاؤن میں ہی ایک سیاسی رہنما کے ڈیرے کے قریب دستی بم حملے ہوئے۔

رسالہ تھانے کی حدود نشتر روڈ پر پولنگ اسٹیشن پر دستی بم حملہ کیا گیا تھا۔ رسالہ میں ہی چاند بی بی روڈ کے پولنگ اسٹیشن پر تعینات فوجی اہلکار محمد نوید فائرنگ سے زخمی ہوا۔ کورنگی کے علاقے باغ کورنگی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے مابین فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

گارڈن میں پولنگ اسٹیشن کے باہر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ نیوکراچی صنعتی ایریا سیکٹر ایف فائیو میں ٹی سی ایف اسکول میں واقع پولنگ اسٹیشن کے باہر انتخابی جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی میں پی ایس 127 کے پولنگ اسٹیشن کے باہر فائرنگ سے پیپلز پارٹی کا ایک کارکن ہلاک ہوا۔ مبینہ ٹاؤن کے علاقے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر حشمت اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر دو سیاسی تنظیموں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

این اے 256 کے گلستان جوہر بلاک 9 میں پولنگ اسٹیشن کے باہر بھی دو گروپوں میں تصادم کے دوران فائرنگ ہوئی۔ کورنگی میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 125 کے پولنگ اسٹیشن کے باہر دو سیاسی گروپوں میں فائرنگ ہوئی۔

اورنگی ٹاؤن کے علاقے قصبہ کالونی میں دو سیاسی گروپوں کے مابین فائرنگ کے بعد اس حلقے کو حساس قرار دیا گیا تھا مگر حالیہ انتخابات میں ایک ماہ کی انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی یا بدامنی کا کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا مگر کراچی کے کُل 4882 میں سے 2508 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیئے گئے ہیں۔

5 سال قبل ضلع شرقی کے 265 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین تھے مگر اب یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ یعنی 698 ہے۔ مئی 2013 میں ضلع جنوبی کے 220 پولنگ اسٹیشن حساس ترین تھے جنہیں اب ڈبل سے بھی زیادہ یعنی 484 کردیا گیا ہے۔ ضلع وسطی کے سابقہ حساس پولنگ اسٹیشن کی تعداد 240 تھی جو اب 245 ہے۔

غربی ضلع میں حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد مئی 2013 کے الیکشن میں 305 تھی جو اب 238 ہے۔گذشتہ الیکشن میں ضلع ملیر کے 197 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین تھے جہاں شدید خدشات کے باوجود یہ تعداد نصف کم کرکے 108 کردی گئی ہے۔

ایسا کیوں کیا گیا؟ کسی ادارے کے پاس کوئی جواز نہیں۔ کمشنر کراچی صالح فاروقی نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی گئی حساس ترین، حساس اور نارمل پولنگ اسٹیشنز کو ان کی جانب سے من و عن جاری کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے شہریوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار ضرور کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈالر کی, قدر میں ,ایک روپے 16 پیسہ کا اضافہ

ڈالر کی قدر میں ایک روپے 16 پیسہ کا اضافہ

کراچی: پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر ہی انٹربینک میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے