امریکا: کال سینٹر اسکینڈل میں 21 بھارتی شہریوں کو سزا

نیویارک: امریکا کی مقامی عدالت نے کال سینٹرل اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی نوجوانوں کو 4 سے 20 سال تک کی قید کی سزا سنادی۔بھارتی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں مقیم بھارتی نوجوانوں نے جعلی کال سینٹر کے ذریعے ہزاروں امریکی شہریوں کو کروڑوں ڈالر سے محروم کردیا تھا۔امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشن نے بتایا کہ ’مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں سے یہ بھارتی کال سینٹر انڈسٹری کا پہلا بڑا اور بدترین مقدمہ ہے‘۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ متعدد زیرِ حراست مجرموں کی سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔پروسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بھارتی کال سینٹر نے متعدد ٹیلی فون فراڈ اسکیم متعارف کرائی اور ان کا ہدف عمر رسیدہ امریکی شہری اور غیرقانونی تارکین وطن تھے۔مجرمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 2012 سے 2016 کے درمیان عرصے میں منی لانڈرنگ اسکیم کے پرپیش نظام کو مرتب کیا اور بھارتی شہر احمد آباد میں بیٹھ کر امریکی عوام کو بیوقوف بنانے کا انتظام کیا گیا۔احمد آباد سے بیٹھ کر کال سینٹر کا ایجنڈ خود کو انٹرنل ریونیو سروس، یو ایس سیٹیزن اینڈ ایمیگریشن افسر ظاہر کرکے لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ بھارتی کال سینٹر نے پہلے ڈیٹا فروخت کمپنی والوں سے امریکا میں رہائش پذیر ان شہریوں کی معلومات خریدی جنہیں گرفتاری یا ملک بدر کیے جانے کا امکان تھا یا پھر ایسے افراد جن میں حکومتی قرضہ دینے کے سکت نہیں تھی۔کال سینٹر ایجنٹس مصیبت میں پھنسے لوگوں کو ویلیو کارڈز خریدنے پر دباؤ ڈالتے تھے اور انکار کی صورت میں انہیں گرفتاری کی دھمکی دیتے تھے۔امریکا کے محمکہ انصاف کے مطابق بھارتی کال سینٹر کے نرغے میں پھنس کر ادائیگی کرنے والوں کو وائر منی یا اسٹور ویلیو کارڈز کی خریداری پر زور دیا جاتا تھا، جب کوئی ایک مرتبہ کال سینٹر کو ادائیگی کردیتا تھا تو بھارت کے شہر احمد آباد میں بیٹھا ہوا کال سینٹر کا ایجنٹ امریکا میں موجود ایجنٹس کو اطلاع کرتا اور یوں امریکا میں مقیم بھارتی رقم وصول کرتے تھے۔بھارتی اخبار کے مطابق اس سے قبل بھی امریکا میں منی لانڈرنگ اسکینڈل اور وائر فراڈ میں 3 بھارتی گرفتار کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ نے صدر اشرف غنی پر انتخابی مہم کے دوران سرکاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے