بیلجیئم؛ مسلم خواتین کے بروکینی پہن کر تیراکی کرنے پر عائد پابندی ختم

برسلز: بیلجیم کی عدالت نے مسلمان خواتین کو مخصوص لباس بروکینی میں تیراکی کی اجازت دے دی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیم کی مقامی عدالت نے سوئمنگ پولز میں بروکینی پر عائد پابندی کو ختم کرتے ہوئے مسلمان خواتین کو مخصوص پورے لباس میں تیراکی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی کو بھی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔بیلجین کورٹ نے بروکینی پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ 2 مسلمان خواتین کی درخواست پر کیا جس میں خواتین نے موقف اختیار کیا تھا کہ بیلجیئم کے گینٹ کے سوئمنگ پولز میں مسلمان خواتین کے بروکینی پہن کر نہانے پر پابندی عائد کرکے مختصر لباس پہننے پر اصرار کیا جا رہا ہے جو کہ مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔واضح رہے کہ عمومی طور پر سوئمنگ کے لیے مختصر ترین لباس پہنا جاتا ہے تاہم بروکینی مسلمان خواتین کے لیے تیراکی کا ایسا مخصوص لباس ہے جس سے جسم کے تمام حصوں کو ڈھانپا جا سکتا ہے اور جسے پہن کر اطمینان سے سوئمنگ کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

ٹوکیو : سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے