حلب میں حکومتی محاصرہ توڑنے کے لیے شدید جھڑپ جاری

حلب کے کئی علاقوں پر اس وقت باغیوں کا قبضہ ہے۔

اختتامِ ہفتہ پر باغیوں نے مشرق میں واقع ایک علاقے کو مغرب میں موجود باغیوں کے علاقے سے ملانے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے راموسہ ضلعے میں فوج کے ٹھکانوں کے نیچے سرنگ بنا کر اس میں بم کا دھماکہ کیا۔

سرکاری فوج باغیوں کے حملے پسپا کرنے کے لیے روسی فضائی حملوں کی مدد سے لڑ رہی ہے۔

گذشتہ ماہ جب سرکاری افواج نے باغیوں کا راستہ مسدود کر دیا تو اس کے بعد سے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد باغیوں کے علاقے میں گھر کر رہ گئے ہیں۔

ایک باغی کمانڈر نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہماری نظریں رموسہ پر ہیں لیکن روسی طیارے شدید بمباری کر رہے ہیں، جس سے ہمیں تیزی سے پیش رفت میں مشکل ہو رہی ہے۔‘

ایک زمانے میں حلب شام کا تجارتی دارالحکومت تھا اور وہاں بیش بہا تاریخی آثار موجود ہیں۔ لیکن اس خزانے کا بڑا حصہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے دوران تباہ ہو چکا ہے۔

روس اور شام نے اعلان کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت شہریوں اور ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کے لیے گزرگاہیں کھول رہے ہیں۔ تاہم اب تک بہت کم لوگوں نے ان کا استعمال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے