ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے اہل ہی نہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ آئندہ صدر کے لیے رپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے لیے نااہل ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ ان کی پارٹی اب تک اس ارب پتی کی کیوں حمایت کر رہی ہے

براک اوباما کا کہنا تھا ’ایک وقت آتا ہے جب آپ کہتے ہیں بس بہت ہو گیا۔‘

ادھر امریکہ میں ڈیموکریٹس اور رپبلکن رہنماؤں کی جانب سے عراق میں ہلاک ہونے والے ایک مسلمان فوجی کی والدہ کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کی حمایت پر بھی ان کی کافی مذمت کی جا رہی ہے۔

براک اوباما نے کہا کہ انھیں کئی سابق رپبلکن صدور اور امیدواروں سے پالیسی اختلافات رہے ہیں لیکن انھوں نے کبھی کسی کے بارے میں یہ نہیں سوچا تھا کے وہ بطور صدر کام نہیں کر سکتے۔

منگل کو براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’رپبلکن پارٹی کے امیدوار صدر کے عہدے کے لیے نا اہل ہیں اور وہ مسلسل یہ ثابت کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ایک گولڈ سٹار خاندان جس نے غیر معمولی قربانی دی ہو اس پر حملے کی حرکت نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس کام کے لیے قطعی قابل نہیں ہیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک بیان میں ’صدر اوباما کی ناکام قیادت‘ کے بارے میں ایک بیان جاری کیا لیکن انھوں نے صدر کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا۔

براک اوباما نے ان رپبلکن رہنماؤں سے بھی سوال کیا جو متواتر ٹرمپ کی جانب سے خواتین، تارکینِ وطن اور مسلمانوں کے بارے میں دیے جانے والے بیانات پر الجھتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’کیا یہ معاملہ آپ کی پارٹی کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ آپ کا معیار ہے؟‘

رپبلکن پارٹی کے اعلی رہنماؤں ایوان کے سپیکر پال ریان اور سینیٹ کے رہنما مچ مک کونیل دونوں ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے ناقدین رہے ہیں تاہم ٹرمپ کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

منگل کو نیویاک سے تعلق رکھنے والے پہلی بار کسی رپبلکن رہنما رچرڈ ہانا نے سرعام کہا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں گے۔انھوں نے کہا کہ خان فیملی کے بارے میں ٹرمپ کے بیان نے ان کے لیے فیصلہ ساز ثابت ہوا۔

کئی ٹرمپ مخالف رپبلکن رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ کلنٹن کے بجائے کسی تیسری پارٹی کے رہنما کو ووٹ دے دیں گے

 

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے