دو روسی حسینائیں ولادی میر پوٹن کے حکم پر برطانیہ پہنچ گئیں، انکا اصل مشن کیا ہے؟

لندن :  روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے بارے میں خوفزدہ مغربی میڈیا آئے روز کوئی ایسی دعویٰ کرتا ہے کہ سننے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ اور اب برطانوی میڈیا نے بھی اب ایک ایسا انکشاف کر ڈالا ہے کہ پوری دنیا ولادی میر پوٹن کے بارے میں حیران نظر آرہی ہے ۔ کہ اتنے بڑے اور طاقتور ملک کا بااثر حکمران عورتوں کو کیسے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے دو خوبرو خواتین کو برطانیہ کی تباہی کا ٹاسک دے کر برطانیہ بھیج دیا ہے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آکسانہ برازنک اور یوحانہ راس نامی حسینائیں جریدے سپوتنک کے لئے کام کرتی ہیں، جس کے متعلق مغرب میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ یہ روسی حکومت کی پراپیگنڈہ مشین ہے جس کا مقصد برطانیہ میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ جو کاکس کی موت کو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے مخالفین سے جوڑنے کی خبر کو بھی اسی جریدے کی کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس کی ایک نئی نیوز ایجنسی کا پہلا دفتر ایڈنبرا میں کھولا جاچکا ہے۔ برطانوی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ آکسانہ برانزک، جو کہ نئی نیوز ایجنسی کے بیورو کی سربراہ ہے، روسی صدر کے اندرونی حلقے سے قریبی تعلقات رکھتی ہیں۔ وہ روسی صدر کے قریبی ساتھی ویاشا سلاف ولودین کی پولیٹیکل ایڈوائزر بھی رہی ہیں۔ روسی نیوز ایجنسی کی ایگزیکٹو پروڈیوسر یوحانا راس ہیں، جو کہ اس سے پہلے سکاٹ لینڈ میں ایک ہوٹل کی سپروائزر تھیں اور دو سال قبل ہی میڈیا میں آئی ہیں۔برطانوی تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ روس میڈیا کے علاوہ برطانوی یونیورسٹیوں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کررہا ہے ۔ اس سلسلہ میں اہم برطانوی تعلیمی اداروں کو لاکھوں ڈالرز اور پاؤنڈز سے نوازنا بھی اسی سازش کا حصہ ہے

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے