سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے این آر او قانون بنایا، پرویز مشرف

اسلام آباد: سابق صدر پرویزمشرف نے سپریم کورٹ میں این آر او کے اجرا کے حوالے سے جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ این آر او قانون کسی بدنیتی سے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت کے سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

 

پاکستان ویوز کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے این آر او کیس میں اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ پرویزمشرف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ این آر او جاری کرنے کی ایڈوائس وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھیجی تھی اور میں نے ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے این آر او ایڈوائس پر دستخط کئے کیوں کہ اس قانون کے اجراء کا مقصد سیاسی انتقام کا خاتمہ اور صاف شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔

 

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ این آر او کا اجراء کرکے کوئی غیر قانونی کام نہیں بلکہ اس کا مقصد باہمی اعتماد کو بڑھانا، قومی مفاہمت کو فروغ دینا اور ملک کا بہترین مفاد تھا، این آر او قانون سے متعلق دائر درخواست ناقابل سماعت ہے لہذٰا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو خارج کیا جائے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو این آر او سے فائدہ اٹھانے کے کیس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق صدور  پرویز مشرف اور آصف زرداری سے تمام اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دینے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جواب کے لیے مہلت دے دی جائے۔

 

یہ بھی پڑھیں

ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

اسلام آباد: عمران خان اپنے دورہ امریکا کے بعد جہاں متعدد وزرا کے قلمدان تبدیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے