جب تک کرپٹ سسٹم کا خاتمہ نہیں ہوتا ، چین سے نہیں بیٹھیں گے

امریکی ایوان نمائندگان اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلی عہدیداران سے ملاقاتیں کی ہیں ، ان ملاقاتوں میں حوصلہ افزاء پیش رفت ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں ہم کرپٹ نواز حکومت کو مزید ٹف ٹائم دینگے۔ ان کا کہنا تھا جب تک کرپٹ سسٹم کا خاتمہ نہیں ہوتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورجینیا کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی اعلیٰ حکام کو بتایا ہے کہ تحریک انصاف جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور اس پارٹی کے چیئرمین عمران خان جمہوری سوچ کے حامل ہیں۔ عمران خان کا سیاست میں آنا پاکستان میں موروثیت کا خاتمہ کرنا اور حقیقی جمہوریت لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداران نے بھی ان سے تحریک انصاف کے منشور اور ایجنڈے کے بارے میں سوالات کیے جن کا بڑے مدلل اور ٹھوس ثبوت کے ساتھ جواب دیا۔ اپنے دورہ امریکہ کے دوران انہوں نے کئی تھنک ٹینک اداروں سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کو پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کے حوالے سے بتایا کہ آپ جو مرضی کر لیں لیکن آپ اس خطے میں پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا پاکستان کی افواج دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیئے جو قربانیاں دے رہی ہیں اس سے اس خطے میں امن آئیگا اور دہشت گردی سے پاک خوشحال نیا پاکستان بنے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اور چوہدری سرور پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے باہر نہیں ہیں۔ میں 5اگست کو واپس جا کر باقاعدہ پارٹی سرگرمیوں میں حصہ لوں گا۔ انہوں نے کہا ہمارا پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ کوئی الائنس نہیں ہے وہ اپنی اور ہم اپنی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن دونوں جانب سے پارٹی کے عہدیداران ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں جو کہ معمول کا حصہ ہے۔دریں اثنا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے حکومت بااختیار کمیشن نہیں چاہتی وہ 56ایکٹ کے تحت کمیشن بنانا چاہتی ہے۔ چنانچہ اب اپوزیشن کی نو جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مل بیٹھ کر ایک بل ڈرافٹ کرینگے اپنے ٹی آر اوز بنائیں گے جن پر اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہو گیا ہے اور ہم اپنا بل بنا کر سینٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اگر حکومت اس کو پاس نہ بھی کرے تو سینٹ میں پاس ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

اسلام آباد: پاکستانی میڈیا کے چار میں سے تین میڈیمز میں جو میڈیا ہاؤسز پچاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے