اسلام کا شدت پسندی سے موازنہ درست نہیں

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے دہشتگردی اور اسلام کی برابری سے انکار کردیا، انکا کہنا ہے کہ اسلام کو دہشتگردی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

پولینڈ کےدارلحکومت وارسا میں صحافیوں سے گفتگو میں پوپ فرانسس نےکہاکہ اسلام کا شدت پسندی سے موازنہ درست نہیں، شدت پسندوں کا ایک چھوٹا گروہ ہر مذہب میں ہوتا ہے، ایسا گروو عیسائی مذہب میں بھی ہے۔

انہوں نے کہ اگر میں اسلامی تشدد کی بات کرونگا تو اسکے ساتھ میں عیسائی مذہبی تشدد کی بات بھی کرونگا، مذہب کسی بے گناہ کو قتل کرنے کا دس نہیں دیتا، یورپ کو اپنے گھر کو غور سے دیکھنا چاہیے، یورپ میں بے روزگاری نوجوانوں کو نشہ، شراب اور شدت پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

پوپ فرانسس نے کہاکہ دہشت گردی تب جنم لیتی ہےجب نوجوانوں کے پاس کوئی دوسراراستہ نہ ہو۔

اس سے قبل کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یورپی ملک پولینڈ میں ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ کے اختتام پر دنیا بھر سے آئے ہوئے دس لاکھ سے زائد زائرین سے خطاب میں کہا ہے کہ اُس انسانیت پر یقین رکھا جائے جو بدی سے زیادہ طاقت ور ہے اور سرحدوں کو رکاوٹیں تسلیم نہیں کرتی۔

پولینڈ کے دورے میں تمام میڈیا کی نظریں پوپ فرانسس پر ہی مرکوز تھیں جبکہ وہ نازی دور کے سابق اذیتی کیمپ آؤشوٹس بھی گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات، 82 ہلاک و زخمی

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات، 82 ہلاک و زخمی

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں کم سے کم تئیس افراد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے