ڈیموکریٹک پارٹی پر ایک بڑا سائبر حملہ کیا گیا ہے

امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان سائبر حملوں کے پیچھے روسی حکومت کے لیے کام کرنے والے ایجنٹوں کا ہاتھ ہے۔

کچھ کا خیال ہے کہ شاید روس امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنا چاہتا ہے

دوسری جانب روس کی حکومت نے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور واشنگٹن سے ہونے والی روس مخالف زہر افشانی کی مذمت کی ہے۔

ہلیری کلنٹن کی مہم کے منتظمین نے جمعے کو کہا تھا کہ تجزیاتی ڈیٹا کے جو پروگرامز انھوں نے متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے تھے ان تک ہیکرز نے رسائی حاصل کر لی ہے۔

تاہم ہلیری کلنٹن کے پریس سیکریٹری نِک میرل کا کہنا ہے اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ان کے اپنے اندرونی سسٹم حملے کا شکار ہوئے ہیں۔

ادھر ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ ہیکنگ کے الزامات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اگر ہیکنگ ہوئی ہے تو کس حد تک ہوئی ہے۔

گذشتہ ہفتے پارٹی کے کنوینشن کے موقع پر ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی ہیک ہونے والی ای میلز لیک ہوگئی تھیں۔

ان ای میلز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عہدیداران امریکی صدارتی امیدوار کی دوڑ کے ابتدائی مرحلے میں ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں آنے والے برنی سینڈرز سے متعصب تھے۔

اس ہیکنگ کے سبب پارٹی کی صدر ڈیبی واسرمین شولز کو مستعفی ہونا پڑا اور فیلاڈلفیا میں ہونے والے کنوینشن میں اس پر ہنگامہ آرائی بھی ہوئي۔

ہلیری کلنٹن کی مہم کے علاوہ ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی (ڈی سی سی سی) بھی حملے کی زد میں آئی ہے۔ ڈی سی سی سی ڈیموکریٹک امیدواروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا کام کرتی ہے۔

ڈی سی سی سی نے جمعے کو کہا کہ اس سلسلے میں انھوں نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی کراؤڈ سٹرائیک کی خدمات حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت کی دھمکی سے ثابت ہوگیا، کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے

بھارت کی دھمکی سے ثابت ہوگیا، کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے

اسلام آباد:   بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے پہل نہ کرنے کی جوہری پالیسی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے