پنجاب میں پیپلز پارٹی سے زیادہ تحریک لبیک پاکستان کے اُمیدوار

اسلام آباد: پنجاب میں ضمنی انتخابات کے حالیہ نتائج سے متاثر ہوکر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے الیکشن 2018 کے لیے پنجاب اسمبلی کی جنرل نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے زیادہ امیدوار میدان میں اتار دیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے انتخابات 2018 کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے پر ایک محتاط تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور گروہوں سے تعلق رکھنے والوں نے شاید پہلی مرتبہ ملک کے سب سے بڑے صوبے سے صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے امیدواروں کی مجموعی تعداد میں اضافہ کردیا۔

ای سی پی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست کے مطابق پنجاب اسمبلی کی مجموعی طور پر 297 نشستوں میں سے 290 پر سیکڑوں امیدوار جنرل نشستوں کے لیے میدان میں موجود ہیں۔

اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ 585 امیدوار مذہبی جماعتوں اور گروہوں کا پلیٹ فارم استعمال کررہے ہیں، اس کے علاوہ چند چھوٹی مذہبی جماعتیں، جیسے پاکستان سنی تحریک اور متحدہ علماء مشائخ کونسل پاکستان بھی پنجاب کے انتخابی میدان میں شامل ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2013 کے انتخابات میں غیر متاثر کن کارکردگی کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت پنجاب میں اپنی جماعت کو دوبارہ سے متحرک کرنے میں کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مذہبی گروہوں کو تقویت ملی اور ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو مذہبی جماعتوں کے امیدواروں سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔

پنجاب کے 290 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی جاری تفصیل سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر دیے گئے دھرنے کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے پر سامنے آنے والی تحریک لبیک پاکستان نے 259 امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے 234 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔

تحریک لبیک پاکستان ’کرین‘ کے نشان پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے بعد تیسرے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان کے امیدواروں کی تعداد موجود ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کے 279 جبکہ مسلم لیگ (ن) میں 266 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی جانب سے پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے 100 سے زائد امیدوار بھی سامنے لائے ہیں اور ان کے قومی اسمبلی کے امیدواروں کی تعداد مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) سے بھی زیادہ ہے۔

پانچ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 161 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا جارہا ہے تو دوسری جانب ملی مسلم لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملنے کے بعد بننے والی اللہ اکبر تحریک نے 121 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

اس کے علاوہ اللہ اکبر تحریک کی جانب سے پنجاب سے قومی اسمبلی کی 50 نشستوں جبکہ خیبرپختونخوا سے 7 نشستوں پر امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے