اجتماعی موت کے پیچھے ’گیارہ ‘ کا پراسرار ہندسہ

نئی دہلی : بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گیارہ افراد پر مشتمل خاندان کی پراسرار ہلاکت کے بعد گیارہ سالوں میں لکھی گئی گیارہ ڈائریوں اورگیارہ پائپوں کی کہانی منظر عام پر آئی ہے۔دہلی کے شمالی علاقے میں واقع براری گاؤں کے ایک ہی گھر میں رہائش پذیر خاندان کی پر اسرار موت کا معمہ ان کی موت سے ایک گھنٹہ قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد حل ہونے کو تھا جس میں خاندان خودکشی کی تیاری کرتا دیکھا جا سکتا تھا ، جو حل نہیں ہو سکا وہ گیارہ کے ہندسے کا معمہ ہے جو دہلی پولیس کو دوارن تفتیش بار بار ستاتا ہے۔دوران تفرتیش ملنے والی ڈائریوں پر خودکشی کے لئے واضح ہدایات لکھی گئیں تھیں اور تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ مرنے والوں کو یقین تھا کہ جب وہ خود کو پھانسی لگائیں گے تو انہیں کچھ نہیں ہو گا۔تحریر میں خودکشی کے تمام مراحل بھی درج کئے گئے تھے۔2015 کے جون کی ایک تحریر میں لکھا تھا ’ میں نے جو کہا تھا ، آج وہ ہوا ہے، آگے بھی ایسے ہی کرتے رہنا ہے، وشواس بنا کے رکھنا ہے۔تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ یہ خاندان کسی جادو ٹونے میں ملوث تھا، ڈائری کی آخری تحریر میں لکھا تھا’ ایک کپ میں پانی رکھو ، جب اس کا رنگ بدلے گا تو میں ظاہر ہو کر تم لوگوں کو بچا لوں گا۔‘بھارتی میڈیا کے مطابق گھر کی بیرونی دیوار پر لگے گیارہ پائپوں میں سے چار سیدھے لگے تھے، سات مڑے ہوئے تھے جبکہ ایک چھوٹا پائپ سب سے الگ لگا تھا۔تفتیش میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ چار سیدھے لگے پائپ گھر کے مردوں کو ، سات مڑے پائپ خواتین کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ ایک الگ لگا پائپ شاید گھر کی بزرگ 77 سالہ خاتون کی نمائندگی کر رہا ہے۔واضح رہےمبینہ خودکشی کرنے والا یہ خاندان گذشتہ 20 سال سے دہلی میں مقیم تھا، اس تین منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ان کی دو دکانیں تھیں۔اتوار کے روز ہمسائے گرچرن سنگھ نے صبح سویرے پڑوسیوں کی لاشیں اس وقت دیکھیں جب وہ دودھ خریدنے جا رہے تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق 10 افراد کی لاشیں لوہے کی جالی سے لٹکی ہوئی تھیں جبکہ77 سالہ خاتون کی لاش زمین پر تھی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے