مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کا 2مسلمان خواتین پر بدترین تشدد

نئی دہلی : بھارت میں انتہا پسند ہندوبے قابو ہوگئے، ریاست مدھیہ پردیش میں گائے کا گوشت لے جانے کے شبے میں دو مسلمان خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی۔

سیکولربھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے، مودی سرکارمیں انتہا پسند ہندوخود ہی عدالت بھی ہیں اورخود ہی منصف بھی، جب اور جہاں دل چاہے مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں۔

ریاست مدھیہ پردیش میں دو مسلمان خواتین پر گائے کا گوشت لے جانے کے شبے میں ہجوم نے بدترین تشدد کیا اور یہ سب پولیس کی نگرانی میں ہوا، دونوں خواتین کو مشتعل ہجوم سے بچانے کے بجائے پولیس محض خاموش تماشائی کا کردارادا کرتی رہی اور انتہا پسند خواتین پر بد ترین تشدد کرتے رہے۔

پولیس زرائع کے مطابق خواتین سے 30 کلو گوشت برآمد ہوا۔

گوشت کی جانچ پڑتال کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ گوشت گائے کا نہیں بھیس کا ہے جبکہ مسلمان خواتین پر بد ترین تشدد کرنے والوں کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ مودی سرکار میں مسلمانوں پر ظلم کا یہ واقعہ نہ پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہوگا، گذشتہ سال گائے کا گوشت رکھنے کے شبے میں دلی میں ایک مسلمان شخص کو گھر میں گھس کرقتل کردیا گیا تھا، جن کے لواحقین انصاف کے حصول کے لئے آج بھی دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے