ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور ایم ایم اے کا کراچی پولیس چیف کو ہٹانے کا مطالبہ

کراچی: سندھ کی تین بڑی سیاسی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، متحدہ مجلس عمل اور پاکستان تحریک انصاف نے منصفانہ انتخابات کے لیے کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔

تینوں جماعتوں کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے مطابق ملک بھر کے پولیس اور انتظامی افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے جب کہ چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل پولیس اور انتظامی افسران بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں نئے پولیس چیفس نے ذمے داریاں سنبھال لی ہیں اور سندھ کے تمام زونز کے ڈی آئی جیز کی بھی تقرریاں اور تبادلے ہوگئے جب کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے ضلعی ایس ایس پیز بھی تتر بتر ہو گئے ہیں۔

لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بااثر پولیس چیف تاحال عہدے پر براجمان ہیں اور لگتا ہے کہ کراچی پولیس چیف کو کلین چٹ دے دی گئی ہے جس کے باعث انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

سیاسی جماعتوں کے مطابق الیکشن کمیشن کی بھی پراسرار خاموشی ہےجب کہ پولیس ذرائع کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ مشتاق مہر جبری طور پر عہدے پر براجمان ہیں۔

کراچی پولیس آفس ذرائع کے مطابق دو ہفتے قبل پولیس چیف جب چھٹی پر گئے تھے تو وہ عملی طور پر عہدے کا چارج چھوڑ گئے تھے، انہوں نے افسران اور دفتری اسٹاف سے الوداعی ملاقاتیں بھی کرلی تھیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔

پولیس میں آئی جی سندھ سمیت تمام عہدوں کے حالیہ تبادلوں کے بعد مشتاق مہر نئی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مشتاق مہر نے گزشتہ دنوں گھر پہنچایا گیا اپنا ذاتی سامان بھی واپس دفتر منتقل کرلیا ہے اور گزشتہ دنوں انہوں نے ایک اجلاس میں اپنے افسران کو اشاراتاً اور مذاق کے طور پر کہا کہ وہ انہیں مزید 35 سے 40 دن برداشت کریں۔

دوسری طرف کراچی پولیس چیف تبدیل نہ کرنے پر سندھ کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے خدشات اور عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور امیدوار حلیم عادل کی جانب سے اس سلسلے میں عدالتی چارہ جوئی بھی کی ہے۔

ایم کیو ایم کے ترجمان امین الحق نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرتے ہوئے مشتاق مہر کو بھی ہٹایا جائے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی دور میں مسلسل تقرری رکھنے والے افسران کی تبدیلی ضروری قرار دی ہے۔

 اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے اس حوالے سے دلچسپ ردعمل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ضروری ہے لیکن نیا ہو یا پرانا پولیس افسر اس سے اے این پی کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ کراچی پولیس چیف کے معاملے پر مشورہ کرکے ردعمل دیں گے۔

ایم ایم اے کے ترجمان مجاہد چنا نے کہا کہ منصفانہ انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کیا جائے اور مشتاق مہر کی طرح دیگر سرکاری محکموں میں بھی افسران بیٹھے ہوئے ہیں۔

ترجمان ایم ایم اے کے مطابق ایسے تمام سرکاری افسران کو عہدوں سے ہٹا کر غیر متنازع افسران تعینات کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

اربوں روپے, کی منی لانڈرنگ, اور, بے نامی, اکاؤنٹس

اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس

کراچی: کسٹم عدالت کے روبرو امریکی ڈالرز بیرون ملک بھیجنے، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے