یونان فرار ہونے والے 8 انقلابی فوجیوں کی یونان سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست

پندرہ جولائی کو فتح اللہ گولن کی دہشت گرد تنظیم فیتو  کی انقلابی کوشش میں حصہ لینے کے بعد یونان فرار ہونے والے 8 انقلابی فوجیوں  نے یونان سے سیاسی پناہ دینے کی جو درخواست دی تھی اس سلسلے میں ان سے انٹرویو کو  ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے ۔

ان فوجیوں کے وکیلوں  کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی درخواست پر ملتوی کیے جانے والے انٹرویوز19 سے لیکر 25 اگست کو عمل میں آئیں گے ۔  وکیلوں نے ترکی میں پھانسی کی سزاؤں کی بحالی کا فیصلہ ہونے یا نہ ہونے کے اعلان کیوجہ سے اضافی مدت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان فوجیوں کو ترکی واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی ۔آج انٹر ویو دینے والے دو فوجیوں کو صبح سویرے ایتھنز سے کاتیحاکی کے سیاسی پناہ مرکز لایا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں

اشرف غنی نے عید کے موقع پر500 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا

اشرف غنی نے عید کے موقع پر500 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا

کابل: افغان حکومت کی جانب سے مرحلہ وار طالبان قیدی رہا کیے جارہے تھے لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے