” ہمیں یہ اختیار ہے کہ۔۔۔“ امریکہ نے ترکی کو دھمکی دے ڈالی لیکن کیوں؟ آپ بھی جانئے

ماسکو :روس سے جدید میزائل شکن دفاعی نظام خریدنے پر امریکہ نے ایک بار پھر ترکی کو ایف 35 طیاروں کی فراہمی روکنے کی دھمکی دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے گزشتہ ہفتے ہی ایک ایف 35 طیارہ ترک حکام کے حوالے کیا تھا۔لیکن امریکی نائب وزیر خارجہ ویس مچل نے خبردار کیا ہے کہ اس پروگرام کو اب بھی بند کیا جا سکتا ہے۔

اعلیٰ امریکی حکام کی جانب سے سینیٹ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ترکی کے پائلٹس کی ٹریننگ مکمل ہونے تک جدید ترین جنگی طیارے امریکی سرزمین پر ہی رہیں گے جس سے امریکی وزارت خارجہ کو اس معاملے میں مداخلت کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔ویس مچل نے سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کو بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے امریکہ طیاروں کی منتقلی تک انہیں اپنی تحویل میں رکھتا ہے، یہ عام طور پر ایک طویل تربیتی پروگرام کے بعد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قانونی اختیار ہے جو ہمیں قومی سلامتی معاملات پر تحفظات سمیت مخصوص حالات میں طیاروں کی منتقلی کو روکنے کی اجازت دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے اس اختیار کے ذریعے ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم یقینی بنائیں کہ ترکی ایس 400 پروگرام کی جانب نہیں جائے گا اور ایف 35 طیاروں کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گا۔ترک حکومت کے واشنگٹن کے ساتھ روس کے میزائل شکن دفاعی نظام ایس 400 سمیت مختلف معاملات پر اختلافات چلے آ رہے ہیں۔امریکی قانون ساز ایس 400 دفاعی نظام خدیدنے کی صورت میں ترکی کو جواب دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ ویس مچل کا کہنا ہے کہ امریکا کا واضح مو¿قف ہے کہ روسی ساختہ ایس 400 میزائل شکن نظام حاصل کرنے کی صورت میں ایف 35 طیاروں سمیت امریکا اور ترکی کے دفاعی تجارت کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس سے زیادہ واضح طور پر نہیں کہہ سکتے کہ روسی دفاعی نظام حاصل کرنے کی صورت میں امریکا اور ترکی کے تعلقات دوبارہ بحال ہونا مشکل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب ترکی کا اس حوالے سے موقف ہے کہ روس سے میزائل شکن ایس 400 دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے اور روس نے بھی ترکی کو دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

برسلز: یوکرینی تنازعہ سے متعلق روسی صدر ولادی میرپیوٹن کے بیان پر یورپی یونین نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے