وزیراعلیٰ کی تبدیلی قائم علی شاہ کی اپنی خواہش تھی

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ قائم علی شاہ تین مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے اور اس دوران ان پر کسی بھی قسم کی کرپشن کا الزام نہیں لگاشہلا رضا نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ قائم علی شاہ کو ان کی کارکردگی کی وجہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔انھوں نے پارٹی کے فیصلے کو ایک اچھااقدام قرار دیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کےلئے جو نیا نام سامنے آیا ہے وہ بھی ایک بہترین سیاستدان ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں قائم علی شاہ نے جس پالیسی کا انتخاب کیا اس کے تحت صوبہ سندھ میں باقی صوبوں کی نسبت کافی بہتری آئی اور آج صوبے میں ملازمتوں کی شرح پنجاب سے زیادہ ہے۔شہلا رضا کا کہنا تھا کہ جب پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو محکمہ پولیس کی حالت اچھی نہیں تھی ہم نے ناصرف اس کے بجٹ میں کافی حد تک اضافہ کیا بلکہ پولیس اہلکاروں کی تربیت بھی فوج سے کروائی.

یہ بھی پڑھیں

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

کراچی: چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے