عمران خان کو این اے 53 سے بھی الیکشن لڑنے کی اجازت

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو این اے 53 سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔ عمران خان کے این اے 53 اسلام آباد سے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔ اپیلیٹ ٹربیونل نے ریٹرننگ افسر (آر او) کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات مسترد کردیے۔ریٹرننگ افسر نے عوام کی فلاح و بہبود کی شق این پُر نہ ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئے تھے۔ عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلٹ ٹریبونل میں سماعت ہوئی۔ ٹریبونل کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ ٹریبونل کے روبرو پیش ہوئے اور انہوں نے حلف نامے کی شق این پُر کردی۔ عمران خان نے فارم کی شق این میں نوٹ لکھا میں نےعوام کی فلاح و بہبود کے لیے نمل یونیورسٹی بنائی، کینسر اسپتال بنایا، عوام کو اپنے آئینی حقوق کی جدوجہد کرنے کا شعور دیا ہے۔ فارم مکمل کرنے کے بعد عمران خان نے میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کیا اورعقبی دروازے سے واپس چلے گئے۔عمران خان قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں این اے 243 کراچی، این اے 131 لاہور، این اے 53 اسلام آباد، این اے 95 میانوالی اور این اے 35 بنوں شامل ہیں۔ کراچی، لاہور اور بنوں سے ان کے کاغذات منظور جب کہ این اے 53 اور این اے 95 سے مسترد کردیے گئے تھے۔ عمران خان نے دونوں حلقوں میں آر اوز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کیں جو منظور ہوگئیں۔واضح رہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت حلف نامے کی شق این کو پُر کرنا ضروری ہے جو کہ عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق کام کے حوالے سے ہے۔ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت عمران خان نے حلف نامے کی شق این پُر نہیں کی تھی جس کے بعد ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

سرحدوں پر خطرات ہیں، غیر اعلانیہ جنگ شروع ہو چکی: شیخ رشید

سرحدوں پر خطرات ہیں، غیر اعلانیہ جنگ شروع ہو چکی: شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے شہباز شریف کو اپنا اچھا دوست قرار دیتے ہوئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے