انتخابات کے التواء کی درخواست مسترد

الیکشن کمیشن نے متحدہ قبائل پارٹی کی عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عام انتخابات 2018ء کو ملتوی کرنے اور فاٹا کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست کی سماعت کی۔ متحدہ قبائل پارٹی کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں سخت گرمی پڑے گی ٹرن آؤٹ بہت کم ہو گا، پورے ملک میں الیکشن ہو رہا ہے صرف فاٹا کو محروم کرنا آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہو گی، دو یا تین ماہ تک عام انتخابات میں تاخیر کی جائے تاکہ پورے ملک میں ایک ساتھ الیکشن ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر ہم الیکشن سردیوں میں لے جائیں تو سرد علاقوں والے لوگ نہیں نکل سکیں گے۔ الیکشن کمیشن نے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے متحدہ قبائل پارٹی کی عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ بعدازاں متحدہ قبائل پارٹی کے وائس چیئرمین حبیب نور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں عام انتخابات 2018ء کے ساتھ ہی فاٹا میں بھی الیکشن کرانے کے لیے اسلام آباد میں احتجاج ہوا جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے نادرہ چوک پر رکاوٹیں لگا کر الیکشن کمیشن جانے والے راستے سیل کر دیئے اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے 2019 ء میں فاٹا میں الیکشن نامنظور کے نعرے لگائے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں جنرل الیکشن 2018 کے ساتھ ہی الیکشن کرائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے