سعودی عرب کے سابق جنرل کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں

سعودی فوج کے سابق جنرل انور اشکی کی وزاتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈور گولڈ سے یروشلم کے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی ہے۔خیال رہے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں

سابق جنرل جدہ میں واقع ایک تھنک ٹینک کے سربراہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے سعودی شاہی خاندان سے قریبی تعلقات ہیں۔

اے پی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیانی سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے سابق جنرل کو اسرائیل کے دورے کے لیے سعودی حکومت حاصل کی ہو گئی۔

سعودی عرب نے اسرائیل کے ہسمایہ ممالک سے جامع امن سمجھوتے کی تجویز پیش کی تھی۔

غیر سرکاری طور پر ایران کے بارے میں پائے جانے والے خدشات پر اسرائیل اور سعودی عرب حالیہ برسوں میں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور دونوں اختلافات کے باوجود بھی سعودی عرب اور اسرائیل ایک طویل عرصے سے مشترکہ طور پر خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی صلاحیت کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل کے مطابق سابق سعودی جنرل نے گذشتہ ہفتے کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا اور ان کے وفد میں کاروباری افراد اور تعلیمی ماہرین بھی شامل تھے۔

اخبار نے سعودی وفد کی تصویر کے ساتھ مزید بتایا کہ سابق جنرل کی خطے میں امن کی کوشش کے سلسلے میں وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کے علاوہ علاقے( غرب اردن) میں اسرائیلی حکومت کی سرگرمیوں کے رابط کار میجر جنرل کے علاوہ پارلیمان کے متعدد ارکان سے ملاقات ہوئی۔

اس علاوہ سعودی وفد نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سمیت دیگر اہلکاروں سے ملاقات کی۔

اخبار کے مطابق سابق سعودی جنرل نے اسرائیلی حکام سے سرکاری دفاتر میں ملاقاتیں کرنے کی بجائے یروشلیم کے ایک ہوٹل میں ملاقات کی

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

ٹوکیو : سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے