شادی ہالز والے بوریا بستراٹھائیں اور کوئی دوسرا کام کریں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں شادی ہالز والے اپنا بوریا بستر اٹھائیں اور کوئی دوسرا کاروبار کریں۔

 

پاکساتان ویوز کے مطابق اسلام آباد میں قائم غیر قانونی شادی ہالز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کی۔ شادی ہالز کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ سی ڈی اے کو اپنی حدود کا علم نہیں، سی ڈی اے نے کئی شادی ہالز کو زمین الاٹ نہیں کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے کو کئی شادی ہالز فیس دینے کو تیار نہیں کیوں نہ غیر قانونی شادی ہالز کو گرا دیا جائے۔

 

وکیل شادی ہال نے جواب دیا کہ سی ڈی اے کو لائسنس فیس ادا کر رہے ہیں لیکن سی ڈی اے کو زمین کی نوعیت کی تبدیلی کے واجبات کیوں دیں۔ سی ڈی اے حکام کا کہنا تھا کہ زرعی زمین کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے واجبات ادا کرنا پڑتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ من مرضی سے کوئی تعمیرات نہیں کر سکتا ہماری مہربانی کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے نے عدالتی حکم پر شادی ہالز کے لیے قوانین بنائے کیا زرعی زمین پر اسٹیل مل اور فیکٹریاں لگ جائیں تو کوئی نہ پوچھے، غیر قانونی شادی ہالز والے تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں،  شادی ہالز والے اپنا بوریا بستر اٹھائیں شادی ہالز سمیٹ کر کوئی دوسرا کاروبار کریں۔

 

 

یہ بھی پڑھیں

ایک, مرتبہ پھر اسلام آباد, ہائیکورٹ سے, رجوع

ایک مرتبہ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

اسلام آباد: سابق وزیراعظم کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے