صدربراک اوباماکے سوتیلے بھائی کا ڈونلڈٹرمپ کو ووٹ دینے کا اعلان

امریکی اخبار کو انٹرویو میں صدراوباما کے سوتیلے بھائی ملک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کو بہتر بنانے کے لئے ٹرمپ کی حمایت کررہے ہیں، انکا کہنا تھا کہ وہ ایک ڈیموکریٹ تھے لیکن اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث انہوں نے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈٹرمپ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک اوباما ہیلری کلنٹن اور صدر اوباما کی جانب سے لیبیا کے صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور قتل پر سخت نالاں دکھائی دیے، جن کے بارے مین انکا کہنا تھا کہ وہ ان کے ایک بہرتین دوست تھے ، ملک اوباما نے 2012 مین اپنے والد کی آبیتی کو معمر قذافی کے نام کیا تھا، انہوں نے کرنل قذافی کے بعد کی صورتحال پر اوباما انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

ریپبلکن پارٹی کی جانب جھکاؤ کی وجہ بتاتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ریپبلکنز کی ہم جنس پرستی کی مخالفت نے بھی انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کیلئے قائل کیا۔

اطلاعات کے مطابق ملک اوباما ریاست میری لینڈ میں رجسٹرڈ ووٹر ہیں، جہاں وہ ایک زمانے میں قیام کرچکے ہیں۔

صدر اوباما اور ملک اوباما کے والد بارک اوباما سینئر 1959 میں کینیا سے امریکا آئے تھے، جب ملک کی عمر ایک سال تھی، اوباما سینئر نے یونیورسٹی آف ہوائی میں داخلہ لیا، جہاں ان کی ملاقات صدر اوباما کی والدہ اسٹینلی این ڈنہیم سے ہوئی۔ پھر دونوں کی شادی ہوئی، 54 سالہ براک اوباما کل ملا کر سات سوتیلے بہن بھائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے