کابل میں احتجاجی ریلی میں دھماکہ کم از کم 50 ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔

ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد بجلی کی سپلائی کے منصوبے میں مجوزہ راستے کے تعین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ منصوبے میں جن راستوں کا انتخاب کیا ہے اس کی وجہ سے ہزارہ آبادی والے علاقے نظر انداز ہو رہے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق دو خود کش دھماکے کیے گئے ہیں۔

کابل میں ایک صحافی نےبتایا کے ہر طرف خون اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں۔

اس احتجاج کے لیے شہر کا ایک بڑا حصہ سیل کیا گیا تھا۔مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر تفریق کے خاتمے سے متعلق نعرے درج تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ترکمانستان سے آنے والے بجلی کی لائن ہزارہ آبادی والے علاقے بامیان اور وردک صوبوں سے ہو کر نہیں گزر رہی

ہزارہ افغانستان میں تیسرا بڑا گروہ ہیں۔ اور یہ زیادہ تر ملک کے وسطی حصوں میں رہتے ہیں۔

یہ لوگ مسلسل نسلی تفریق کی شکایت کرتے ہیں خصوصاً نوے کی دہائی میں طالبان حکومت کے دوران۔ ان میں سے بیشتر پاکستان، ایران اور تاجکستان نقل مکانی کر گئے تھے۔

 

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

ٹوکیو : سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے