ڈی پی او جعفرآباد جہانزیب کاکڑ کی خودکشی کی وجوہات سامنے آگئیں

ضلع جعفرآباد میں تعینات ڈی پی او جہانزیب کاکڑ نے رواں برس 16 مئی 2016ءکو اپنے دفتر میں سرکاری پستول سے کنپٹی پر گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ ان کی پر اسرار ہلاکت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ ان کے ورثاءنے خودکشی کو قتل کا رنگ دینے کی کوشش بھی کی جبکہ مختلف افواہیں ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی رہی ہیں۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد عبدالستار عیسانی کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش مرکزی حکومت کو بھیج دی ہے۔ ایس ایس پی جہانزیب کاکڑ کی خودکشی کے ضمن میں شرجیل کھرل ڈی آئی جی نصیرآباد اور عبدالرزاق چیمہ ڈی آئی جی سپیشل برانچ بلوچستان پر مشتمل اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی نے خودکشی کی وجوہات تلاش کرلی ہیں۔ عبدالستار عیسانی مرکزی انتظامی سروس کے افسر ہیں جن کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور سے ہے جو متوفی جہانزیب کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں، 15 مئی 2016ءکی شب انہوں نے جہانزیب کاکڑ کو شکار پور میں اپنے کسی رشتہ دار کی رہائش گاہ پر عشائیہ میں مدعو کیا۔ جہاں دونوں نے شراب نوشی کے علاوہ بعض نشہ آور ادویات استعمال کیں۔ اس دوران عبدالستار عیسانی اپنے دوست کو وہاں ہوش و حواس سے بے گانہ چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ انکی عدم موجودگی میں شراب کے نشہ میں مدہوش جہانزیب کاکڑ نے اوٹ پٹانگ حرکات شروع کردیں اور نیم برہنہ ہو کر رقص شروع کردیا جس کی وجہ سے انہیں اردگرد رہائش پذیر لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور مقامی پولیس کے حوالے کردیا۔ متوفی جہانزیب کاکڑ ہوش و حواس میں لوٹنے پر ذلت و رسوائی برداشت نہ کرسکے اور خودکشی کا ارتکاب کرلیا

یہ بھی پڑھیں

دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار

دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار

کوئٹہ: صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران دہشت گرد عناصر اور ان کے سرپرستوں کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے