ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کو ’محفوظ‘ ملک بنانے کا وعدہ

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیداور کی نامزدگی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو لاحق خطرات سے لڑیں گے اور انھیں ختم کر دیں گے۔

اوہائیو میں پارٹی کے کنونشن کے آخری مرحلے میں انھوں نے اپنے خطاب میں کہا: ’جن جرائم اور تشدد نے ہمارے ملک کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے وہ جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔‘

ٹرمپ نے موجودہ امریکہ کی سیاہ تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صدارت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں امریکہ اور عام آدمی کو اولیت حاصل ہوگی۔

پارٹی نے انھیں گذشتہ روز ہی صدارتی امیدوار کے لیے نامزد کیا تھا جسے انھوں نے تسلیم کیا اور پھر کنونشن سے خطاب کیا۔

اس موقع پر امریکہ کے سابق صدور اور پارٹی کی سرکردہ شخصیات بش سینیئر اور جونیئر موجود نہیں تھے جنھوں نے ٹرمپ کی نامزدگی کی سخت مخالفت کی تھی۔

نیو یارک کے ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ اس خطاب سے ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات رفع ہو جائیں گے اور پارٹی متحد ہوگی۔

تقریباً ایک گھنٹے کے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی جو تصویر پیش کی اس کے مطابق امریکہ نہ صرف بکھر رہا ہے بلکہ تنزلی کی راہ پر ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں ’بھولے جا چکے امریکیوں کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی آواز ہوں۔‘

’ہم اپنے ملک کو پھر سے محفوظ، خوشحال اور پر امن بنائیں گے۔ یہ ایک فیاض اور پر جوش ملک ہو گا۔ لیکن ہم ایسا ملک ہوں گے جہاں امن و امان ہو۔

اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن پر بار بار شدید نکتہ چینی کی اور ان کے لیے موت، تباہی اور کمزوری جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہمارا عقیدہ امریکن ازم ہوگا بین الاقوامیت نہیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو شکست دیں گے۔

اس موقع پر ٹرمپ نے ہم جنس پرستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایل جی بی ٹی کے حقوق کی پاسبانی کرنے کی بات کہی اور کہا کہ وہ اس برادری کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔

دوسری جانب ہیلری کلنٹن کی مہم کے چیئرمین جان پوڈیستا نے ٹرمپ کی تقریر کو منقسم کرنے والی بتا کر ان پر نکتہ چینی کی۔

انھوں نے کہا: ’آج رات ڈونلڈ ٹرمپ نے تنزلی پذیر امریکہ کی سیاہ ترین شبیہہ پیش کی ہے۔ اور اس سے مزید خوف، مزید تقسیم، زیادہ غصّہ اور نفرتوں کا جواب ملتا ہے، یہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ان کا مزاج عہدہ صدارت کے لیے قطعی فِٹ اور قابل نہیں ہے۔‘

گذشتہ روز ریپبلکن پارٹی کے ایک سینیئر رہنما ٹیڈ کروز نے بھی اسی کنوشنس سے خطاب کیا تھا لیکن انھوں نے بھی مسٹر ٹرمپ کی حمایت نہیں کی تھی جس کے سبب ان کی تضحیک کی گئی تھی۔

ریاست ٹیکسس سے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہی صدارتی امیدوار کی ریس میں شامل تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس مقابلے میں دونوں ایک دوسرے کے سخت ترین حریف تھے۔

یہ بھی پڑھیں

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اسلام آباد: بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے