بارودی سرنگوں کو ڈھونڈنے والی تربیت یافتہ شہد کی مکھیاں

: یوگو سلاویہ میں تربیت یافتہ مکھیوں نے کامیابی کے ساتھ بارودی سرنگوں کو شناخت کیا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں چھپی موت کی ان مشینوں کو تلف کرنے میں مدد ملے گی۔1990ء کے عشرے میں ہونے والی بلقان کی جنگوں میں بچھائی جانے والی بارودیں سرنگیں اب بھی انسانوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں جنہیں پہلی مرتبہ تربیت یافتہ شہد کی مکھیوں سے شناخت کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مکھیاں بغیر پھٹے خطرناک بموں کو بھی ’سونگھ‘ سکتی ہیں۔اس طرح کم خرچ طریقے سے بہت طویل عرصے تک بارودی سرنگوں کی شناخت اور انہیں ناکارہ بنانے میں مدد مل سکے گی۔ بعض حالات میں مکھیاں سونگھنے والے کتوں سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر روس اسکاٹ لینڈ میں واقع سینٹ اینڈریو یونیورسٹی میں ماہرِ طبیعیات ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی تربیت کا سہرا ڈاکٹر روس گیلانڈر کے سر ہے جنہوں نے مکھیوں کو اس قابل کیا کہ وہ بارودی سرنگیں کھوج سکیں۔شہد کی مکھی جب بارودی سرنگ شناخت کرلیتی ہے تو اس مقام پر ڈرون بھیج کر اس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اولین کامیابیوں کے بعد سابق یوگو سلاویہ سے الگ ہونے والے ملک کروایشیا میں ان کی آزمائش کی جارہی ہے جہاں اب بھی زمین میں دبی لاکھوں بارودی سرنگیں (لینڈ مائنز) موجود ہیں۔نیٹو کے سائنس برائے امن و سلامتی پروگرام کے تحت مقامی مکھیوں کی افزائش اور باقاعدہ تربیت کا کام گزشتہ برس نومبر میں شروع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر روس نے اپیس میلی سیرا کارنیکا نامی شہد کی مکھیوں کو اس کام کے لیے منتخب کیا ہے۔ مکھیوں کو دو دن تک مشہور بارود ٹی این ٹی کے اوپر شہد رکھ کر تربیت دی جاتی ہے۔ڈاکٹر روس کہتے ہیں کہ ٹی این ٹی کی شناخت میں انہیں شہد کا انعام دے کر تربیت دی جاتی ہے اور دو دن کی تربیت کے بعد انہیں چھتوں سے بارودی سرنگوں کی جانب روانہ کیا جاتا ہے تو وہ بارود والی سرنگوں پر جمع ہوتی ہیں۔ تاہم تین روز کام کرنے کے بعد مکھیاں جان جاتی ہیں کہ انہیں کوئی انعام نہیں دیا جارہا اور اس کے بعد دوبارہ مکھیوں کو تجربہ گاہ میں بارود پر شہد رکھ کر تربیت دی جاتی ہے۔اس کے بعد وہاں ڈرون بھیجے جاتے ہیں جو چند میٹر اوپر رہ کر منڈلاتے رہتے ہیں اور ڈرون کی ویڈیو سے کسی مقام پر بارودی سرنگ کی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے۔اس طرح کروایشیا میں پی ایم اے ٹو اور پی ایم اے تھری اقسام کی بارودی سرنگوں کو شناخت کیا گیا ہے تاہم بہت تیز ہوا، بارش اور اندھیرے میں مکھیاں کام نہیں کرسکتیں پھر بھی ماہرین نے اس عمل کو بہت مؤثر اور کم خرچ قرار دیا ہے۔دنیا بھر میں بارودی سرنگوں سے ہر سال 15 سے 20 ہزار افراد ہلاک ہورہے ہیں اور معذور ہونے والوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ورالئر نامی یہ دوا سنہ 2015 میں بالغ افراد میں شیزو فرینیا کے علاج کے لیے منظور کی گئی

ورالئر نامی یہ دوا سنہ 2015 میں بالغ افراد میں شیزو فرینیا کے علاج کے لیے منظور کی گئی

امریکا : اب ان کی ریسرچ کے کامیاب نتائج کو دیکھتے ہوئے ایف ڈی اے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے