پوکیمون گو کھیلنے والے بارودی سرنگوں سے محتاط رہیں

بوسنیا نے خبردار کیا ہے کہ مقبول ترین موبائل فون گیم پوکیمون گو کھیلتے ہوئے ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے جہاں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں بچھائی گئیں تھیں۔

بوسنیا میں 1990 کی دہائی کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو نکالنے والے فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ پوکیمون گو کھیلتے ہوئے کئی افراد خطرناک علاقوں میں گئے ہیں۔

اس گیم میں سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی دنیا میں چھپے گیم کے ایک کردار کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔

بوسنیا میں 1995 میں جنگ ختم ہونے کے بعد سے بارودی سرنگوں کے حادثے میں کم سے کم 600 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک مختلف علاقوں سے 120000 مائینز نکالی گئی ہیں۔

جیسے جسیے سمارٹ فون گیم پوکیومون گو مقبول ہو رہی ہے ویسے ہی ویسے مختلف حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لینڈ مائینگ کے خلاف سرگرم فلاحی تنظیم نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’ہمیں کچھ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بوسنیا میں پوکیمون گو ایپ استعمال کرنے والے یوکیمون کی تلاش میں ایسے علاقوں میں گئے جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عوام پر زور دیا جاتا ہے کہ خطرناک علاقوں میں لگے سائن بورڈ کا خیال رکھیں اور انجان علاقوں میں مت جائیں۔‘

اس سے قبل امریکہ میں دو لڑکوں کو چور سمجھ کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا یہ دنوں رات کے اوقات میں گیم کے کردار کو ڈھونڈ رہے تھے۔

جبکہ دوسری جانب برطانیہ کے ایک علاقے میں یہ گیم کھیلتے ہوئے ایک شخص نے چوری کی اطلاع پولیس کو دی

یہ بھی پڑھیں

کیمیکلز, سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب, اور جگر کے, امراض کا, خطرہ بڑھتا ہے

کیمیکلز سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے

جن لوگوں کے پیشاب کے نمونوں میں ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز کی مقدار زیادہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے