الیکشن کمیشن کیخلاف بھرپور احتجاج کرینگے، محمود خان اچکزئی

پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سیاستدانوں، فوج، ججز اور میڈیا نمائندوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پشتون وطن اور کوئٹہ میں پشتونخوامیپ کو فارغ کرنے سے ملک اور صوبہ ترقی کرے گا، تو وہ اپنا یہ شوق پورا کرلیں۔ جو میں کہوں وہ حق ہے، اس رویئے کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ بکاؤ مال کے ذریعے ملک اور صوبے نہیں چلا کرتے۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا کام معلومات اکٹھی کرکے حکومت کے حوالے کرنا ہوتا ہے، بادشاہ بننا نہیں۔ میاں نواز شریف آئین کو مقدم اور پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنانے کیلئے میدان عمل میں ہے، اس لئے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پشتون اکثریت کو ختم کرنے کی کوششوں پر میری ذاتی رائے صوبے میں نہ رہنے کی ہے۔ وزیرستان کی صورتحال پر اس وقت پارلیمنٹ میں خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس وقت منظور پشتین شاید صرف 5 برس کے تھے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے پرامن احتجاج کو بزور طاقت روکنے کی بجائے ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ اگر ان کے مطالبات جائز نہیں ہے یا ان کا احتجاج آئین و خلاف قانون ہے، تو عوام کو بتایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار محمود خان اچکزئی نے پشتونخوامیپ کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین فضل قادر شیرانی، صوبائی صدر محمد عثمان خان کاکڑ، رضا محمد رضا، میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ، سابق سینیٹر عبدالرؤف لالا، سابق رکن صوبائی اسمبلی عبیداللہ جان بابت ودیگر کے ساتھ کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان, میں ہر سال تھیلیسیمیا, کے 2 ہزار, نئےکیسز سامنے, آرہے ہیں

بلوچستان میں ہر سال تھیلیسیمیا کے 2 ہزار نئےکیسز سامنے آرہے ہیں

کوئٹہ: صوبے میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے کیسز کے باعث ایک خاندان کے چار افراد بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے