پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کے نام، حتمی فیصلہ ہوگیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے انتخابی ٹکٹ کے لئے امیدواروں کے ناموں کا حتمی اعلان کردیا۔ واضح رہے کہ تجویز کردہ ناموں میں زیادہ تر وہ افراد موجود ہیں جو حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) یا پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ اب تک پارٹی نے قومی اسمبلی 272 نشستوں کے لئے 173 امیدواروں جبکہ صوبائی اسمبلی کی 427 نسشتوں کے لیے 290 امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے زیادہ تر نئے امیدواروں کا چناؤ کرنے پر پارٹی کے دیرینہ کارکنان اور رہنماؤں میں بےچینی پائی جاتی ہے، جس کے باعث چیئرمین عمران خان کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں کارکنان کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ پارٹی ٹکٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کے سربراہ عمران خان خود 5 حلقوں سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں، جس میں این اے۔53 اسلام آباد، این اے۔35 بنوں، این اے۔95 میانوالی، این اے۔131 لاہور، اور این اے۔243 کراچی شامل ہیں۔
اس مرتبہ عمران خان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اسلام آباد اور کراچی سے انتخابات میں حصہ لینے جبکہ راولپنڈی سے انتخاب نہ لڑنے ک فیصلہ کیا جہاں گزشتہ 2013ء کے عام انتخابات مین حلقہ این اے۔56 سے انہیں کامیابی ملی تھی۔
اس ضمن میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے لئے تقریباً 90 فیصد ٹکٹ دیئے گئے ہیں، جہاں کل 99 نشستوں کے لئے 81 امیدوار میدان میں اتریں گے، جبکہ پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں کے لئے 186 ٹکٹس، بلوچستان کی 51 نشستوں کے لیے 23 ٹکٹس اور سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں کے لئے محض 21 ٹکٹس دئے گئے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کے مطابق ٹکٹ دینے کا یہ پہلا مرحلہ تھا، چنانچہ باقی ماندہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے ٹکٹ دینے کا اعلان 13 جون کو کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی اپنے آبائی حلقے این اے۔156 جبکہ فواد چوہدری این اے 67 جہلم سے انتخابات میں حصہ لیں گے، جبکہ سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو حلقہ این اے۔25 نوشہرہ اور مراد سعید کو این اے۔4 سوات کا ٹکٹ دیا گیا۔ اسی طرح عبدالعلیم خان کو این اے۔129 لاہور کا ٹکٹ دیا گیا، جہاں انہیں گذشتہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، غلام سرادر خان کو قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے۔59 اٹک اور این اے۔63 کا ٹکٹ جاری کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں سے ایک عامر محمود کیانی کو این اے۔61 راولپنڈی کا ٹکٹ دیا گیا۔ڈاکٹر یاسمین راشد جنہیں ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، این اے۔125 سے انتخاب میں حصہ لیں گی جبکہ اعجاز چوہدری این اے۔133 سے کھڑے ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شفقت محمود نے این اے۔130 لاہور کے لئے پارٹی ٹکٹ حاصل کیا جبکہ گذشتہ انتخابات میں وہ این اے۔126 سے کامیاب ہوئے تھے جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکرٹری سابق وزیر دفاع کے خلاف حلقہ این اے۔73 سیالکوٹ سے میدان میں اتریں گے۔ اس کے علاوہ جن اہم رہنماؤں کو ٹکٹ دیئے گئے ان میں عمر ایوب خان، عثمان خان ترکئی، طاہر صادق، ابرارالحق، نذر محمد گوندل، ندیم افضل گوندل، اسحاق خاکوانی، سردار طالب نکئی، رضا حیات ہیراج اور احمد یار ہیراج شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے کچھ مرکزی رہنما انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پارٹی ٹکٹ سے محروم رہے جن میں سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، سابق رکن قومی اسمبلی علی محمد خان، فردوس عاشق اعوان، اور شہریار آفریدی شامل ہیں۔ اس ضمن میں جاری کئے گئے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ افراد جنہیں پارٹی ٹکٹ نہیں مل سکے انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیئے، پارٹی ٹکٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں کا اعلان کر دیا، یہ ایک مشکل مرحلہ تھا، کیوںکہ تقریباً 4500 امیدوار تھے جس میں سے 4 سے 500 افراد کا چناؤ کیا گیا ہے۔ اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا جو لوگ ٹکٹ سے محروم رہ گئے وہ مایوس نہ ہوں اور اپنی پوری توجہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو کامیاب کرانے پر دیں۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے