شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان اور بھارت کی بحیثیت رکن پہلی بار شرکت

چین کے شہر چِنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اٹھارہواں سربراہی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں پاکستان اور بھارت مستقل رکن بننے کے بعد پہلی مرتبہ شرکت کر رہے ہیں۔ چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کا 18ویں اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے جس کی خاص بات پاکستان اور بھارت بحیثیت مستقل رکن پہلی مرتبہ شرکت کررہے ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تنظیم میں شمولیت خوش آئند ہے جس سے خطے میں امن اور استحکام کی راہ متعین ہو گی۔ دونوں ممالک کی تنظیم میں شمولیت سے سیکیورٹی اہداف کے حصول میں کار آمد ثابت ہوں گے۔ اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کے علاوہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، ایران کے صدر حسن روحانی اور صدر مملکت ممنون حسین کے علاوہ تاجکستان، کرغزستان، بیلاروس کے صدور بھی شریک ہیں۔ ولادی میر پوٹن نے چینی ہم منصب کے ساتھ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین میں سفر کیا اور دونوں رہنماؤں نے آئس ہاکی کا میچ بھی دیکھا۔ واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 2001ء میں چین اور روس نے رکھی تھی ابتدا میں قزاقستان، ازبکستان، کرغیزستان، تاجکستان کو شامل کیا گیا اس کے بعد 2017ء میں پاکستان اور بھارت کو اس تنظیم کا باقاعدہ رکن بنایا گیا تھا۔ تنظیم کے بنیادی مقاصد میں انسداد دہشت گردی، سرحدی تنازعات کا حل اور علاقائی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایران کی دھمکیوں پر خلیجی ممالک اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب

ایران کی دھمکیوں پر خلیجی ممالک اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب

ریاض:  سعودی عرب نے ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث خلیجی ممالک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے