کراچی، صوبائی حلقوں میں تقابلی جائزے کے دوران دلچسپ اعداد و شمار

کراچی: عام انتخابات 2018ء کیلئے سندھ اسمبلی کی کراچی میں واقع 44 نشستوں کی جاری ڈارفٹ ووٹرز فہرست اور چھٹی مردم شماری 2017ء کے تقابلی جائزے کے دوران دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ضلع شرقی میں واقع نشست پی ایس 99 جو احسن آباد اور سپر ہائی وے کے قرب و جوار کے علاقوں پر مشتمل ہے، اس حلقے میں آبادی کے مقابلے میں ووٹ صرف ساڑھے 15 فیصد ہیں۔

ضلع شرقی میں ہی سندھ اسمبلی کا حلقہ پی ایس 102، جو گلشن اقبال کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے، اس میں آبادی کے مقابلے میں ووٹ 70 فیصد سے زائد ہیں۔ ضلع غربی کے حلقہ پی ایس 122 میں آبادی کے مقابلے میں ووٹرز تقریباً 22 فیصد، جبکہ ضلع وسطی کی نشست پی ایس 126 میں 80 فیصد سے زائد ہیں اور یہ حلقہ فیڈرل بی ایریا، عزیزآباد اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چیک کرنے کی ضرورت ہے کہ آبادی اور ووٹرز میں اتنا زیادہ فرق حقیقی ہے یا کہیں پر غلطی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پیپلز پارٹی کو معاشی، انسانی اور جمہوریت کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے

پیپلز پارٹی کو معاشی، انسانی اور جمہوریت کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے

کراچی: بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایسے منصوبے لائی جو غریب کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے