26 جون تک امن کمیٹی وانا میں گشت نہیں کرے گی، مذاکرات کامیاب

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں اتوار کے روز احتجاج اور اس دوران امن کمیٹی کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کے قتل کے بعد مقامی عمائدین اور پولیٹیکل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ جرگہ کے دوران پولیٹیکل حکام اور احمد زئی وزیر کے عمائدین اس امر پر متفق ہوئے کہ 26 جون تک امن کمیٹی کے ارکان وانا میں گشت نہیں کریں گے بلکہ ایف سی اہلکار اور مقامی عمائدین پر مشتمل کمیٹی کے 120 ارکان وانا میں سکیورٹی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ذرائع کےمطابق جرگہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وانا بازار کو کل سے عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ وانا میں اتوار کے روز امن کمیٹی کے ارکان کی فائرنگ سے پشتون تحفظ موومنٹ کے دو کارکن جاں بحق جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ دوسری جانب راوالپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ وانا میں پی ٹی ایم اور امن کمیٹی کے ارکان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے مسلسل فوج اور ریاست مخالف نعرے بازی کے باعث امن کمیٹی کے ارکان کے اشتعال کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر زیرگردش افواہ کی تردید کی کہ واقعہ میں ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وانا کو انتہاپسندی سے پاک کرنے کے سلسلے میں امن کمیٹی نے پاک فوج کے شانہ بشانہ قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرنے والی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔ ادھر مقامی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کی قیادت میں ایک پرامن ریلی نکالی گئی تھی بلااشتعال جس پر کمیٹی کے ارکان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو کارکن جاں بحق جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوگئے، البتہ علی وزیر محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک کے کارکن غیرمسلح تھے جو کمیٹی کے ارکان کی فائرنگ کے جواب میں سنگ باری کر رہے تھے۔ بعدازاں بعض زخمیوں کو مقامی لوگوں جبکہ بعض کو فوجی ہیلی کاپٹروں میں جنوبی وزیرستان اور ڈی آئی خان کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق وانا میں تعینات پاک فوج کے جوانوں کی مداخلت پر جنگ بندی کرائی گئی جبکہ زخمیوں کو ملٹری ہیلی کاپٹروں میں ڈی آئی خان کے ہسپتال منتقل کیا گیا جس کی تصدیق تحریک کے کارکنوں نے بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوج ہی تھی جس نے واقعے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ پی ٹی ایم کی ریلی پر حملے کے بعد تحریک کے مشتعل کارکنوں نے امن کمیٹی کے دو دفاتر کو نذرآتش بھی کیا۔ بعض لوگوں کے مطابق حملہ آور طالبان تو بعض انہیں امن کمیٹی کے ارکان قرار دیتے رہے۔ واضح رہے کہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر علاقے میں کرفیو نافذ کردی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق فریقین کے درمیان مذاکرات کیلئے آج ایک جرگہ بلایا گیا تھا۔ دوسری جانب واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد پی ٹی ایم کے مشتعل کارکنوں اور حامیوں ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور علی وزیر اور پی ٹی ایم ریلی پر حملے کی مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں

شعبہ امراض قلب, میں موجود, مشینیں خراب, ہوچکی ہیں

شعبہ امراض قلب میں موجود مشینیں خراب ہوچکی ہیں

پشاور: لیڈی ریڈنگ اسپتال کے سینیئرز ڈاکٹرز کی جانب سے اسپتال انتظامیہ کو خط کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے