گلف سٹیل کا معاہدہ بھی جعلی تھا، واجد ضیاء کا ایک اور انکشاف

پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ اور نیب کے گواہ واجد ضیا نے احتساب عدالت میں جرح کے دوران بیان دیا کہ شریف خاندان کی گلف اسٹیل کا 1980 کا معاہدہ جعلی تھا۔احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث گواہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھیں گے۔ نوازشریف کے وکیل نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا پر جرح کی۔واجد ضیا نے بتایا کہ گلف اسٹیل کے 1978 کے شیئرز سیل معاہدے کے مطابق نواز شریف کے کزن طارق شفیع اور ماموں محمد حسین شرکت دار تھے، جے آئی ٹی نے طارق شفیع سے محمد حسین کے بیٹے شہزاد حسین کا ایڈریس پوچھا لیکن طارق شفیع نے محمد شہزاد کا پتہ و رابطہ نمبر نہیں دیا، جے آئی ٹی نے شہزاد حسین کے ایڈریس کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملا، 1980 کا معاہدہ جعلی تھا، معاہدے کے دوسرے گواہ لاہور سے محمد اکرم تھے، محمد اکرم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے واجد ضیاء پر جرح مؤخر کرتے ہوئے لندن فلیٹس ریفرنس میں پراسیکیوشن سے کل حتمی دلائل طلب کرلیے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گلف اسٹیل ملز 1980 میں 90 لاکھ ڈالر میں فروخت کی گئی تھی۔ اس کے بعد حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بیان میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم گلف اسٹیل مل کی مشینری 50 سے 60 ٹرکوں میں جدہ منتقل کی گئی، اس مشینری سے العزیزیہ اسٹیل قائم کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے