افغانستان میں علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکے سے 7 افراد جاں بحق

کابل: افغانستان میں حکومت کے خلاف جنگ کو حرام قرار دینے والے علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکے سے 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں دارے کے مطابق کابل میں علما و مشائخ کے اجلاس کے باہر زوردار دھماکا ہوا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

افغان وزرات داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ دھماکا اجلاس کے اختتام پر اس وقت ہوا جب علمائے کرام کی اکثریت ہال سے جا چکی تھی۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم اب تک دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

واضح رہے دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی 2 ہزار سے زائد علمائے کرام نے اس اہم اجلاس میں افغانستان میں حکومت کے خلاف جاری جنگ کو غیر شرعی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں کو شر پسند قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

برسلز: یوکرینی تنازعہ سے متعلق روسی صدر ولادی میرپیوٹن کے بیان پر یورپی یونین نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے