ناکام بغاوت میں فتح اللہ گولن کا گروپ ملوث ہے : طیب اردوان

انقرہ: ترک  صدر رجب طیب اردوان نے  الزام لگایا ہے کہ  ناکام بغاوت میں فتح اللہ گولن کا گروپ ملوث ہے لیکن  گروپ نے بغاوت میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔

تفصیلات کےمطابق فتح اللہ گولن  پنسلوانیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کا گروپ حزمد کے نام سے معروف ہے جس کا مطلب اتحاد برائے مشترکہ اقدار ہے جو کاروباری افراد، مفکرین، دانشوروں پر مشتمل ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق گروپ کو صرف دس فیصد ترک عوام کی حمایت حاصل ہے ،،ترک صدر طیب اردوان اور گولن کے حامیوں میں  شدید اختلافات ہیں اور گولن کے حامی رجب طیب اردوان حکومت پر فوج ، عدلیہ اور پولیس  کو کرپٹ کرنے کے الزامات لگاتے ہیں ۔ گروپ صدر کے صاحبزادے بلال پر بھی کرپشن کے الزامات   لگاتا رہا ہے ۔

ادھر ترک حکومت کے وکیل رابرٹ ایمسٹر ڈیم نے کہا ہے کہ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ فتح اللہ گولن کا گروپ بغاوت میں  براہ راست ملوث ہےاور یہ کہ وہ امریکی حکومت کو گولن کی تحریک کے بارے میں متنبہ کرتے رہے ہیں گولن کےمنتخب حکومت کے مخالف بعض فوجی عہدیداروں سے براہ راست رابطے ہیں۔

تحریک حزمد نے بغاوت میں اس کے ہاتھ کوانتہائی غیر ذمہ دارانہ قراردیا ہے اورکہا ہے کہ وہ سیاست میں فوجی مداخلت کا مخالف ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے