جنسی زیادتی سے متاثرہ خواتین سنیپ چیٹ پر

سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم سنیپ چیٹ فلٹر کا استعمال لوگ عموماً دوستانہ بات چیت کو تفریحی بنانے کے لیے کرتے ہیں لیکن انڈیا میں اس کا استعمال سنجیدہ مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے

انڈیا میں جنسی زیادتیوں کے شکار لوگ اپنا درد بانٹنے کے لیے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس فلٹر کے ساتھ متاثرہ خواتین اور لڑکیاں اپنے تجربات بہت آسانی کے ساتھ شیئر کر رہی ہیں کیونکہ انھیں بھروسہ ہوتا ہے کہ اس فلٹر کی وجہ سے ان کی شناخت ظاہر نہیں ہوگی۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے موبائل ایڈیٹر یوسف عمر نے اس طرح کا تجربہ کیا۔ انھوں نے جنسی زیادتی کی شکار لڑکیوں اور خواتین کے تجربات کو سنیپ چیٹ فلٹر کے ذریعے لوگوں کے سامنے رکھا۔ عمر نے اپنے اس تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ آنکھوں سے روح کی سچائی کا پتہ چل جاتا ہے۔

اتنا ہی نہیں سنیپ چیٹ اپنے فلٹر کے لیے چہرے کی پیمایش کی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جس سے چہرے کے تاثرات کا پتہ چلتا ہے۔

عمر کے مطابق ایک متاثرہ لڑکی نے ڈریگن فلٹر کا استعمال کیا اس میں بھی آپ چہرے کے تاثرات صاف دیکھ سکتے ہیں۔

انڈیا میں لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً دو کروڑ پچھتر لاکھ خواتین اس کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے معاملے ایسے بھی ہوتے ہیں جس میں متاثرہ عورتیں خوف کے سبب شکایت درج نہیں کراتیں۔

انڈیا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں جنسی زیادتی سے متاثرہ خواتین کی شناخت ظاہر کرنا غیر قانونی ہے ایسے میں اس طرح کی تکنیک کا استعمال لوگوں کو اپنی شاخت ظاہر کیے بغیر اپنی بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

ڈریگن کا استعمال کرنے والی ایک لڑکی نےبتایا کہ پانچ سال کی عمر میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، حیدر آباد میں کسی نے اس کا اغوا کیا اور انھیں میسور لے جا کر قید کر کے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ یوسف عمر نے بتایا کہ خواتین اپنے فلٹر کا انتخاب خود کرتی ہیں اور تصویر کا فلٹر کرکے اس بات کو یحقینی بنا سکتی ہیں کہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو۔

انھوں نے بتایا کہ صرف انڈیا میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں متاثرہ خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو سامنے لانے کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیمیکلز, سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب, اور جگر کے, امراض کا, خطرہ بڑھتا ہے

کیمیکلز سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے

جن لوگوں کے پیشاب کے نمونوں میں ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز کی مقدار زیادہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے