ہم تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہیں

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں تیز رفتار ٹرک کی ٹکر سے ہونے والی درجنوں ہلاکتوں کے بعد عالمی رہنماؤں نے اس ’دہشت گرد حملے‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسے ایک ’ہولناک حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر وہ امریکہ کے دیرینہ ساتھی فرانس کے ساتھ ہیں۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ یہ بہت تلخ حقیقت ہے کہ لوگ آزادی، برابری اور بھائی چارے کا جشن منا رہے تھے کہ اُن پر حملہ کیا گیا۔

انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یورپ اور ایشیا کے رہنما نیس کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ’ہم تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہیں۔‘

چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ ’ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں متاثرین سے ہمدردی ہے۔ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔‘

حملے کے بعد ہی فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انھوں نے اس حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا

انھوں نے کہا: ’فرانس اس وقت آبدیدہ اور غم زدہ ہے، لیکن وہ مضبوط ہے اور فرانس ان افراد کے مقابلے میں ہمیشہ مضبوط رہے گا جو آج حملہ کرنا چاہتے تھے۔‘

برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ بورس جانسن نے بھی نیس پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ نیس میں ہونے والے انتہائي خراب واقعے اور خوفناک طریقے سے زندگیوں کے ضیاع پر انھیں صدمہ اور افسوس ہے۔

بیلجیئم کے نائب وزیرِ اعظم ڈیڈیئر رینڈرز نے کہا ہے کہ ’میں اپنے ملک کی طرف سے اپنے فرانسیسی ساتھیوں سے اظہارِ افسوس اور اظہارِ ہمدردی کرتا ہوں۔‘

جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل اور فرانس کے وزیر خارجہ ژاں مارک منگولیا میں ہونے والی ایشیا یورپ میٹنگ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے گئے ہیں جہاں ان رہنماؤں نے نیس کے متاثرین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فرانس میں ہونے والے حملے پر پاکستانی عوام رنجیدہ ہیں اور اس المناک موقع پر فرانسیسی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان فرانس کے دکھ سے اچھی طرح واقف ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کی ریاست ہونے کے ناتے ہم نے ایسے کئی واقعات کا سامنا کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تشدد کے اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے ہلاک شدگان کے لواحقین سے بھی ہمدردی ظاہر کی ہے۔

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلٹن نے بھی اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ہولناک قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کا دل بیٹھ گيا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت واضح انداز سے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، انھیں تنہا نہیں چھوڑنا ہے اور نیٹو سمیت ہمیں اپنے اتحادیوں کو اور مضبوطی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

امریکی سینیٹر کی ایران مخالف پالیسیوں پر نکتہ چینی

۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جانب سے عائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے