لارڈز ٹیسٹ؛ پاکستان کے ابتدائی 4 بلے باز پویلین لوٹ گئے

لندن: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تاریخی کرکٹ گراؤنڈ لارڈز میں جاری پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز قومی ٹیم کے ابتدائی 4 بلے باز پویلین لوٹ گئے۔ 

قومی ٹیم 6 سال بعد انگلینڈ کی سرزمین پر میزبان ٹیم سے مدمقابل ہے جب کہ پہلے ٹیسٹ میں کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اوپننگ بلے باز محمد حفیظ اور شان مسعود نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی وکٹ پر38 رنز کی شراکت قائم کی تو شان مسعود 7 رنزبنا کر کرس ووکس کا شکار ہوگئے۔ دوسری وکٹ پر محمد حفیظ اور اظہر علی 13 رنز ہی جوڑ پائے تھے کہ حفیظ 40 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ کھانے کے وقفے تک قومی ٹیم نے 76 رنز بنالئے تھے لیکن وقفے کے بعد اظہرعلی بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے اور وہ 7 رنز ہی بنا سکے۔ان کے بعد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی یونس خان تھے جو 33 رنز بنا کر 134 کے مجموعی اسکور پر براڈ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

قومی ٹیم کے پاس مڈل آرڈر میں مصباح الحق، یونس خان، اظہر علی، اسد شفیق اور وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد جیسے قابل بھروسہ بلے باز ہیں جب کہ بولنگ کے شعبے میں قومی ٹیم کے پاس فاسٹ بولر محمد عامر، وہاب ریاض، راحت علی  اور اسپن کے شعبے میں یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر قومی ٹیم کے اہم ہتھیار ہیں۔

دوسری جانب انگلش ٹیم کی بیٹنگ لائن بھی کسی سے کم نہیں لیکن بیٹنگ اور بولنگ دونوں ہی شعبوں میں اس وقت اسے شدید جھٹکا لگا جب فاسٹ بولر جیمس انڈریسن اور جارح مزاج آل راؤنڈر بین اسٹوک انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے جب کہ انگلش اسکواڈ کپتان السٹرکک، الیکس ہیلز، جوئے روٹ، گیری بیلنس، جیمس ونس، جونی بریسٹو، معین علی، کرس ووکس، اسٹارٹ براڈ، جیک بال اور اسٹیون فن پر مشتمل ہے۔

انگلش کھلاڑیوں اور میڈیا کی نظریں قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ پر مرکوز ہیں اور برطانوی میڈیا کی بھرپور کوشش ہے کہ محمد عامر کو دباؤ میں لانے کے لئے متنازع خبروں کو ہوا دی جائے اور انگلش کپتان اپنے خوف کا اظہار پہلے ہی کئی متنازع بیانات دے کر کرچکے ہیں جس پر انہیں سبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں

گال ٹیسٹ: کین ولیمسن اور سری لنکن اسپنر اکیلا کے بولنگ ایکشن مشکوک قرار

گال ٹیسٹ: کین ولیمسن اور سری لنکن اسپنر اکیلا کے بولنگ ایکشن مشکوک قرار

سری لنکا کے شہر گال میں ٹیسٹ میچ کے دوران آفیشلز نے نیوزی لینڈ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے