عراق میں داعش کو بڑا جھٹکا،اہم ترین کمانڈر الشیشانی ماراگیا

واشنگٹن:عراق وشام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک اہم کمانڈر عمر شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق داعش سے منسلک ایک نیوز ایجنسی کی جانب سے سے جاری کی گئی ہے۔اعماق نامی نیوز ایجنسی کے مطابق عمر شیشانی عراق کے شہر موصل کے جنوبی قصبے شرکت میں ہلاک ۔

امریکی نشریاتی ادارے  کی رپورٹ کے مطابق پینٹا گون کے دوعہدیداروں کا کہنا ہے کہ شیشانی کو چند روز قبل امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایاتھا۔جب کہ قبل ازیں امریکی وزارت دفاع نے رواں برس مارچ میں عمر شیشانی کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی۔تاہم پینٹا گون حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم کی جانب سے ہلاکت کی تصدیق کے باوجود امریکی حکام اپنے ذرائع سے ہلاکت کی تصدیق کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔
پینٹا گون حکام نے تصدیق ہو نے تک نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ الشیشانی جوکہ عمر دی چیچن کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کو موصل کے جنوب میں واقع قاریہ کے علاقہ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ شیشانی کی عراق میں ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد آج بھی کہیں بھی آزادانہ نقل و حرکت کرنے کے قابل ہیں۔اعماق کی رپورٹ میں ہلاکت کی تصدیق تو کی گئی ہے تاہم حملے کی مزید تفصیلات کہ حملہ کب اور کیسے ہوااس بارے میں نہیں بتایاگیا۔
بی بی سی  کا کہنا ہے کہ امریکی وزارت دفاع کے مطابق امریکی فضائیہ کا یہ حملہ رواں برس چار مارچ کو شام کے شمال مشرقی علاقے شدادی میں اس وقت کیا گیا جب عمر شیشانی وہاں داعش کے جنگجوؤں کی تربیت کے لیے موجود تھے۔عمر شیشانی کا اصل نام ترکان باتراشویلی تھا تاہم وہ عمر دی چیچن کے نام سے مشہور تھے۔عمر شیشانی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغادی کے قریبی فوجی مشیر تھے۔

 

دولتِ اسلامیہ کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق عمق نامی ویب سائٹ کے ذریعے سامنے آئی ہے جسے دولت اسلامیہ اپنی خبریں شائع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔عمق کا کہنا ہے کہ عمر شیشانی عراق کے شہر موصل میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔امریکہ نے گذشتہ سال شیشانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے