بلوچستان میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں ہے، جمعیت علما اسلام (ف)

مولانا حبیب اللہ مینگل کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعیت کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کوئٹہ مستونگ، نوشکی، قلات میں مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد، رکن قومی اسمبلی انجینئر عثمان بادینی اور دیگر نے مولوی حبیب اللہ مینگل کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی کے بعد مظاہرے میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں مسجد اور مولوی محفوظ نہیں ہیں۔ بے گناہ مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران خواب خرگوش میں ہیں۔ آج تک کسی بھی عالم دین کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ اگر بے گناہ قتل کئے جانے والوں کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا، تو ان کے قتل کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ بلوچستان میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اور کارکنوں نے ہمیشہ امن کا علم اٹھائے رکھا ہے۔ ہم نے کبھی بھی فرقہ وارانہ تنظیموں کا ساتھ نہیں دیا، اس کے باوجود ہمیں مارا جا رہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں امن وامان کے لئے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس کے باوجود مسجد کے اماموں سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی سکیورٹی کے لئے محافظ رکھیں۔ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم نے ذاتی محافظ رکھنے ہیں، تو اتنی خطیر رقم بجٹ میں مختص کرنے کی کیا ضرورت ہے۔؟ یہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے بنایا گیا بجٹ ہے۔ اس رقم کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ مولوی حبیب اللہ کی شہادت پر ہم نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شہید ساتھی کی تدفین کی۔ ہمارے اس صبر و تحمل کو کمزوری یا بزدلی کا نام نہ دیا جائے۔ اگر حبیب اللہ شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، تو ہم شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی،عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہل کار شہید

دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی،عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہل کار شہید

عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی جوانوں پر دہشت گردوں کا حملہ دو سپاہی شہید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے