سول ملٹری جھگڑے کا جے آئی ٹی پر اثر پڑا، مریم نواز

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صاحبزادی مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ سول ملٹری جھگڑے کا جے آئی ٹی پر اثر پڑا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں، نواز شریف کے بعد مریم نواز نے اپنا بیان قلمبند کرانا شروع کردیا۔

:جے آئی ٹی پر اعتراض
مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی ریفرنس کے لئے نہیں، سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیئے تاکہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے، ایسے اختیارات دینا غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھا۔ جے آئی ٹی کی تفتیش یک طرفہ تھی، جے آئی ٹی نے شاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں۔
:جے آئی ٹی ارکان پر اعتراض
مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا، آئین کا آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کا حق دیتا ہے، جے آئی ٹی کے ارکان کو سپریم کورٹ نے تعینات کیا، مگر جے آئی ٹی ارکان پر ہمارے تحفظات تھے۔ جے آئی ٹی کے ایک رکن بلال رسول میاں محمد اظہر کے بھتیجے تھے جب کہ میاں اظہر سابق گورنر پنجاب رہ چکے اور اب پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں، بلال رسول اور ان کی اہلیہ مسلم لیگ (ن) کے کھلے مخالف اور پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جےآئی ٹی میں شامل عامر عزیز کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا، انہیں 2000 میں پرویز مشرف حکومت نے ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات کیا، عامر عزیز نے حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات کی تھیں۔

:واجد ضیا جانبدار
جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا جانبدار تھے، انہوں نے اپنے کزن اختر راجہ کو سولیسٹر مقرر کیا، اختر راجہ نے جھوٹی دستاویزات تیار کیں۔
آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی شمولیت
مریم نواز نے کہا کہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید اور ایم آئی کے بریگیڈیئر کامران بھی آئی ایس آئی میں شامل تھے، ان دونوں افراد کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی، 70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا جے آئی ٹی پر اثر پڑا، بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا بھی حصہ تھے، ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا، جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے، نعمان سعید کو آؤٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔
:رپورٹ یکطرفہ قرار
مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی کی 10 جلدوں پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی، یہ تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے، جے آئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کے لئے تھی، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔

:نواز شریف کا بیان
نواز شریف نے عدالت کے روبرو 3 روز میں 128 سوالات کے جوابات دیئے۔ نواز شریف نے کہا مجھے دفاع میں کوئی گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت میں نیب اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائے، پیغام دیا گیا کہ وزارت عظمی سے مستعفی ہو جاؤ یا طویل چھٹی لے کر باہر چلے جاؤ، میں نے پرویز مشرف کا کیس روکنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں

نندی پور پاور پراجیکٹ میں ملزمان کی بریت درخواست پر فیصلہ

نندی پور پاور پراجیکٹ میں ملزمان کی بریت درخواست پر فیصلہ

اسلام آباد: احتساب عدالت نے کے جج ارشد ملک نے نندی پور پاور پراجیکٹ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے