مسلمان شہری نے ہندو کی جان بچانے کے لئے اپنا روزہ توڑ دیا، ایسا کام کر ڈالا کہ

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس کا احوال پُر ملال ہمیں ہر روز سننے کو ملتا ہے، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کے دل بہت بڑے ہیں۔ وقت آن پڑے تو وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں اور شفقت و صلہ رحمی کا ایسا بے مثال مظاہرہ کرتے ہیں کہ اپنے پرائے سب واہ واہ کر اٹھتے ہیں۔ ایک ایسی ہی خوبصورت مثال ریاست اتراکھنڈ کے شہر ڈیرہ دون سے تعلق رکھنے والا یہ مسلمان ہے جس نے ایک ہندو نوجوان کی جان بچانے کے لئے ایثار کی نئی مثال قائم کر دی۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 20 سالہ ہندو نوجوان اجے بلاولام اچانک بیمار پڑگیا اور اس کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہوگئی۔ اجے کو A+ خون کی فوری طور پر ضرورت تھی ورنہ اس کی جان کا بچنا محال تھا۔ بیٹے کو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھ کر اجے کے والد نے سوشل میڈیا پر ایک دردناک اپیل جاری کی کہ فوری طور پر اس کے بیٹے کو A+ خون کی ضرورت ہے کوئی اس کی مدد کو پہنچے۔ موت کی دہلیز پر کھڑے ہندو نوجوان کی مدد کو پہنچنے والا پہلا شخص عارف خان نامی مسلمان شہری تھا جس تک یہ اپیل واٹس ایپ کے ذریعے پہنچی تھی۔عارف خان نے روزہ رکھا ہوا تھا اور اس کا اصرار تھا کہ وہ کچھ کھائے پیئے بغیر ہی خون دینا چاہتا ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کے لئے خون عطیہ کرنے سے پہلے کچھ کھانا پینا ضروری ہوگا۔ ہندو نوجوان کی زندگی خطرے میں تھی جس پر عارف خان نے ڈاکٹروں کی بات کو تسلیم کیا اور فوری طور پر کچھ اشیاءکھانے کے بعد خون کا عطیہ دیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خون کا عطیہ فوری طور پر دستیاب ہوجانے سے ہندو نوجوان کی زندگی اب خطرے سے باہر ہے۔ دریں اثناءعارف خان کے جذبہ ایثار کو ہر کوئی سراہ رہا ہے۔ اجے کے اہلخانہ نے ہی نہیں بلکہ ہندو کمیونٹی نے بڑے پیمانے پر ان سے اظہار تشکر کیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ان کے نیک عمل کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں جنسی زیادتی میں ملوث رکن اسمبلی نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا

اتر پردیش:  جنسی زیادتی میں ملوث سماج پارٹی کے رکن اسمبلی اٹل رائے نے خود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے